کیا نقل کروں شامِ غریباں کی بہار

ناصر کاظمی


کیا نقل کروں شامِ غریباں کی بہار
کیا نقل کروں شامِ غریباں کی بہار
کیا نقل کروں شامِ غریباں کی بہار
کیا نقل کروں شامِ غریباں کی بہار
باقی تھے ابھی دھوپ کے کم کم آثار
بیٹھا تھا سرِ خیمہ کبوتر کوئی
مہتاب سے پر لال لہو سی منقار