08 اگست 1960 ۔ 06 اپریل 2019

اکبر معصوم
اکبر معصوم اردو غزل کے ایک نمایاں شاعر تھے۔ سن دوہزار کے قریب اْن کاپہلا شعری مجموعہ ’’اور کہاں تک جانا ہے‘‘ شائع ہوا جسے اردو ادب میں خوب پذیرائی حاصل ہوئی۔
مزید

02 فروری 1923 ۔ 14 اگست 2005

ضیا جالندھری
ضیا جالندھری: جدید اردو نظم کا معتبر نام اور حلقہ اربابِ ذوق کے ترجمان
مزید

15 اگست 1932 ۔ 03 جون 1992

اختر حسین جعفری
اختر حسین جعفری (پیدائش: 15 اگست، 1932ء - وفات: 3 جون، 1992ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کی جدید نظم کے ممتاز شاعر تھے۔
مزید

01 جنوری 1926 ۔ 05 اگست 1982

رئیس فروغؔ
رئیس فروغ: جدید اردو غزل کا ایک دھیما اور گہرا لہجہ
مزید

10 اپریل 1772 ۔ 16 اگست 1838

امام بخش ناسخ
شیخ امام بخش ناسخ کا شمار اردو کے اساتذہ میں ہوتا ہے۔ ناسخ جب فیض آباد سے لکھنؤ آئے تو ایک رئیس میر کاظم علی سے منسلک ہو گئے جنھوں نے ناسخ کو اپنا بیٹا بنا لیا۔ ان کے انتقال پر اچھی خاصی دولت ناسخ کے ہاتھ آئی۔ انھوں نے لکھنؤ میں بود و باش اختیار کر لی اور فراغت سے بسر کی۔
مزید

04 اگست 1899 ۔ 07 فروری 1978

صوفی تبسّم
صوفی غلام مصطفیٰ تبسمؔ اردو اور فارسی کے وہ قد آور ادیب اور شاعر ہیں جنہوں نے بیک وقت بڑوں کے لیے سنجیدہ فکر و فلسفہ اور بچوں کے لیے "ٹوٹ بٹوٹ" جیسی لازوال دنیا تخلیق کی۔ ان کی شخصیت علم و حلم کا ایک ایسا سنگم تھی جس نے نسل در نسل لوگوں کی علمی و جذباتی آبیاری کی۔
مزید

حقیقت میں جو دیکھنا تھا نہ دیکھا

داغ دہلوی


ان آنکھوں نے کیا کیا تماشا نہ دیکھا
حقیقت میں جو دیکھنا تھا نہ دیکھا
تجھے دیکھ کر وہ دوئی اٹھ گئی ہے
کہ اپنا بھی ثانی نہ دیکھا نہ دیکھا
ان آنکھوں کے قربان جاؤں جنہوں نے
ہزاروں حجابوں میں پروانہ دیکھا
نہ ہمت نہ قسمت نہ دل ہے نہ آنکھیں
نہ ڈھونڈا نہ پایا نہ سمجھا نہ دیکھا
مریضان الفت کی کیا بے کسی ہے
مسیحا کو بھی چارہ فرما نہ دیکھا
بہت درد مندوں کو دیکھا ہے تو نے
یہ سینہ یہ دل یہ کلیجا نہ دیکھا
وہ کب دیکھ سکتا ہے اس کی تجلی
جس انسان نے اپنا ہی جلوا نہ دیکھا
بہت شور سنتے تھے اس انجمن کا
یہاں آ کے جو کچھ سنا تھا نہ دیکھا
صفائی ہے باغ محبت میں ایسی
کہ بادِ صبا نے بھی تنکا نہ دیکھا
اسے دیکھ کر اور کو پھر جو دیکھے
کوئی دیکھنے والا ایسا نہ دیکھا
وہ تھا جلوہ آرا مگر تو نے موسیٰ
نہ دیکھا نہ دیکھا نہ دیکھا نہ دیکھا
گیا کارواں چھوڑ کر مجھ کو تنہا
ذرا میرے آنے کا رستا نہ دیکھا
کہاں نقش اول کہاں نقشِ ثانی
خدا کی خدائی میں تجھ سا نہ دیکھا
تری یاد ہے یا ہے تیرا تصور
کبھی داغؔ کو ہم نے تنہا نہ دیکھا
فَعُولن فَعُولن فَعُولن فَعُولن
متقارب مثمن سالم