24 جولائی 1920 ۔ 24 جولائی 1991

کیف بھوپالی
کیف بھوپالی بھوپال کی زرخیز ادبی زمین کا وہ پودا تھے جو مشاعروں کی دنیا میں ایک تناور درخت بن کر ابھرا۔ کیف بھوپالی محض ایک شاعر نہیں تھے بلکہ وہ ایک "محفل" تھے؛ ان کا اندازِ بیان اور سادہ مگر دل میں اتر جانے والے اشعار سامعین پر سحر طاری کر دیتے تھے۔
مزید

20 مارچ 1922 ۔ 12 جولائی 1993

سیف الدین سیف
سیف الدین سیفؔ (۱۹۲۲ء تا ۱۹۹۳ء) اردو غزل کے وہ نغمہ گر تھے جن کے لہجے کی مٹھاس اور گداز نے انہیں ہر دل عزیز بنا دیا۔ وہ ایک ایسے فنکار تھے جنہوں نے غزل کی کلاسیکی نفاست کو فلمی نغمہ نگاری کے وسیع کینوس پر اس مہارت سے بکھیرا کہ فلمی گیت بھی ادبِ عالیہ کا حصہ بن گئے۔
مزید

27 دسمبر 1809 ۔ 11 جولائی 1869

مصطفٰیٰ خان شیفتہ
نواب مصطفٰی خان شیفتہ جہانگیر آباد کے جاگیردار، اردو فارسی کے باذوق شاعر اور نقاد تھے۔
مزید

24 دسمبر 1919 ۔ 11 جولائی 2001

قتیل شفائی
قتیل شفائی (۱۹۱۹ء تا ۲۰۰۱ء) اردو غزل اور فلمی نغمہ نگاری کا وہ معتبر نام ہیں جنہوں نے سادگی اور سلاست کو فن کی بلندی عطا کی۔ وہ ایک ایسے عوامی شاعر تھے جن کے کلام کی خوشبو گلی کوچوں سے لے کر بڑے بڑے ایوانوں تک پھیلی ہوئی تھی۔ ان کی شاعری میں بہت نغمگی اور موسیقیت ہے
مزید

10 جولائی 1935 ۔ 11 مئی 1991

عالم تاب تشنہ
نام سید عالم تاب علی اور تخلص تشنہ تھا۔۲۰؍اپریل ۱۹۳۵ء کو میرٹھ میں پید اہوئے۔ میرٹھ سے ایم اے کیا۔ اپریل ۱۹۵۹ء میں پاکستان آگئے۔
مزید

01 اگست 1790 ۔ 01 نومبر 1854

شیخ ابراہیم ذوق
مغلیہ سلطنت کے برائے نام بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے عہد میں، ملک الشعراء کے خطاب سے نوازے جانے والے ذوق اپنے زمانہ کے دوسرے اہم شاعروں غالب اور مومن سے بڑے شاعر مانے جاتے تھے.
مزید

تمہارے بس میں آنکھیں ہیں جدھر جاؤ ادھر دیکھو

نوح ناروی


مرا دل دیکھو اب یا میرے دشمن کا جگر دیکھو
تمہارے بس میں آنکھیں ہیں جدھر جاؤ ادھر دیکھو
قیامت میں نہ میرے منہ سے پھر فریاد نکلے گی
اگر یہ کہہ دیا اس نے یہاں آؤ ادھر دیکھو
تمہارے نام پر مر مٹنے والا کون ہے میں ہوں
اگر سوچو اگر سمجھو اگر مانو اگر دیکھو
مرے دل کو چرا کر پھر چراؤ آنکھ کیا معنی
نگاہ قہر ہی سے تم مجھے دیکھو مگر دیکھو
جو کہتا ہوں فنا کے بعد سب کو چین ملتا ہے
تو وہ کہتے ہیں پھر اب دیر کیا تم بھی مر دیکھو
رقیبوں کو تم آنکھیں تو دکھاتے ہو سرِ محفل
کہیں ایسا نہ ہو بن جائے میری جان پر دیکھو
کسی کو دیکھ کر اے نوحؔ کیسی کچھ بنی دل پر
یہ کس کمبخت نے تم سے کہا تھا تم ادھر دیکھو
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
ہزج مثمن سالم