01 جون 1938 ۔ 15 مارچ 2015

ماجد صدیقی
ماجد صدیقی اردو اور پنجابی ادب کا وہ قد آور نام ہیں جن کی تخلیقی صلاحیتوں نے دونوں زبانوں کو مالا مال کیا ہے۔ ایک شاعر، مترجم، اور کمال کے نثر نگار کی حیثیت سے ان کا کام جدید ادب میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
مزید

22 اگست 1924 ۔ 12 مارچ 2015

ادا جعفری
ادا جعفری ۱۹۲۴ میں پیدا ہوئیں، ان کے شعری مجموعہ شہر درد کو 1968ء میں آدم جی ادبی انعام ملا۔ شاعری کے بہت سے مجموعہ جات کے علاوہ ’’جو رہی سو بے خبری رہی‘‘ کے نام سے اپنی خود نوشت سوانح عمری بھی 1995ء میں لکھی۔ 1991ء میں حکومت پاکستان نے ادبی خدمات کے اعتراف میں تمغۂ امتیاز سے نوازا۔
مزید

25 مئی 1831 ۔ 17 مارچ 1905

داغ دہلوی
داغ دہلوی اردو غزل کے چند بڑے شعرا میں سے ایک ہیں۔ ان کے شاگردوں کا سلسلہ ہندوستان میں پھیلا ہوا تھا۔ اقبال، جگر مراد آبادی، سیماب اکبر آبادی اور احسن مارہروی جیسے معروف شاعر وں کو ان کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا۔ ان کے جانشین نوح ناروی بھی ایک معروف شاعر ہیں۔
مزید

11 مارچ 1939 ۔ 15 اپریل 2004

عرفان صدیقی
عرفان صدیقی جدید اردو غزل کے ان چند معتبر شعراء میں سے ہیں جنہوں نے کلاسیکی روایت کی روح کو برقرار رکھتے ہوئے اسے عصری حسیت کے ساتھ اس طرح جوڑا کہ ان کا لہجہ منفرد اور توانا ہو گیا۔ ان کی شاعری میں کربلا کا استعارہ اور ہجرت کے دکھ ایک نئے رنگ میں ڈھل کر سامنے آئے۔
مزید

10 اپریل 1910 ۔ 10 مارچ 1981

عبدالحمید عدم
عبد الحمید عدم عبد الحمید عدم پاکستان کے نامور شاعر ہیں جو رومانی غزلوں کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔
مزید

20 اپریل 1918 ۔ 18 مارچ 2007

اختر ہوشیارپوری
نام عبدالسلام اور اختر تخلص ہے۔۲۰؍ اپریل۱۹۱۸ء کو ہوشیار پور، مشرقی پنجاب میں پیدا ہوئے۔ بی اے، ایل ایل بی پنجاب یونیورسٹی سے کیا۔ ۱۹۴۷ء میں پاکستان آگئے اور راول پنڈی میں سکونت اختیارکی۔
مزید

یہ بل کھاتے ہوئے رستے یہاں سے

رسا چغتائی


کہاں جاتے ہیں آگے شہرِ جاں سے
یہ بل کھاتے ہوئے رستے یہاں سے
وہاں اب خواب گاہیں بن گئی ہیں
اٹھے تھے آب دیدہ ہم جہاں سے
زمیں اپنی کہانی کہہ رہی ہے
الگ اندیشۂ سود و زیاں سے
انہیں بنتے بگڑتے دائروں میں
وہ چہرہ کھو گیا ہے درمیاں سے
اٹھا لایا ہوں سارے خواب اپنے
تری یادوں کے بوسیدہ مکاں سے
میں اپنے گھر کی چھت پر سو رہا ہوں
کہ باتیں کر رہا ہوں آسماں سے
وہ ان آنکھوں کی محرابوں میں ہر شب
ستارے ٹانک جاتا ہے کہاں سے
رساؔ اس آبنائے روز و شب میں
دمکتے ہیں کنول فانوس جاں سے
مفاعیلن مفاعیلن فَعُولن
ہزج مسدس محذوف