10 اپریل 1910 ۔ 10 مارچ 1981

عبدالحمید عدم
عبد الحمید عدم عبد الحمید عدم پاکستان کے نامور شاعر ہیں جو رومانی غزلوں کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔
مزید

11 مارچ 1939 ۔ 15 اپریل 2004

عرفان صدیقی
عرفان صدیقی جدید اردو غزل کے ان چند معتبر شعراء میں سے ہیں جنہوں نے کلاسیکی روایت کی روح کو برقرار رکھتے ہوئے اسے عصری حسیت کے ساتھ اس طرح جوڑا کہ ان کا لہجہ منفرد اور توانا ہو گیا۔ ان کی شاعری میں کربلا کا استعارہ اور ہجرت کے دکھ ایک نئے رنگ میں ڈھل کر سامنے آئے۔
مزید

12 نومبر 1915 ۔ 09 مارچ 1996

اختر الایمان
اختر الایمان جدید نظم کے مایہ ناز شاعر ہیں، انہیں 1963ء میں فلم دھرم پوتر میں بہتری مکالمہ کے لیے فلم فیئر اعزاز سے نوازا گیا۔ یہی اعزاز انہیں 1966ء میں فلم ’’وقت‘‘ کے لیے بھی ملا۔ 1962ء میں انہیں اردو میں اپنی خدمات کے لیے ساہتیہ اکیڈمی اعزاز ملا۔ یہ اعزاز ان کا مجموعہ یادیں کے لیے دیا گیا تھا۔
مزید

22 اگست 1924 ۔ 12 مارچ 2015

ادا جعفری
ادا جعفری ۱۹۲۴ میں پیدا ہوئیں، ان کے شعری مجموعہ شہر درد کو 1968ء میں آدم جی ادبی انعام ملا۔ شاعری کے بہت سے مجموعہ جات کے علاوہ ’’جو رہی سو بے خبری رہی‘‘ کے نام سے اپنی خود نوشت سوانح عمری بھی 1995ء میں لکھی۔ 1991ء میں حکومت پاکستان نے ادبی خدمات کے اعتراف میں تمغۂ امتیاز سے نوازا۔
مزید

08 مارچ 1913 ۔ 24 جون 1989

قیوم نظر
قیوم نظر (۱۹۱۴ء تا ۱۹۸۹ء) اردو ادب میں جدید نظم کے ان معماروں میں سے ہیں جنہوں نے "حلقہ اربابِ ذوق" کے پلیٹ فارم سے اردو شاعری کو ایک نئی سمت اور نیا مزاج عطا کیا۔ وہ ایک ایسے تخلیق کار تھے جنہوں نے روایتی بندشوں سے آزاد ہو کر انسانی نفسیات اور مظاہرِ فطرت کو ایک انوکھے انداز میں بیان کیا۔
مزید

01 جون 1938 ۔ 15 مارچ 2015

ماجد صدیقی
ماجد صدیقی اردو اور پنجابی ادب کا وہ قد آور نام ہیں جن کی تخلیقی صلاحیتوں نے دونوں زبانوں کو مالا مال کیا ہے۔ ایک شاعر، مترجم، اور کمال کے نثر نگار کی حیثیت سے ان کا کام جدید ادب میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
مزید

خاک اڑاتے پھرتے ہیں جو دیوانے دیوانے ہیں

فراق گورکھپوری


جن کی زندگی دامن تک ہے بے چارے فرزانے ہیں
خاک اڑاتے پھرتے ہیں جو دیوانے دیوانے ہیں
وحدت انساں اپنے کو شاعر سے منوا لیتی ہے
کیا انجانے کیا بیگانے سب جانے پہچانے ہیں
مجھ کو شاعر کہنے والو میں کیا میری غزلیں کیا
میں نے تو بس سرکار عشق میں کچھ پرچے گزرانے ہیں
بھولے بھالے محبوبوں سے داؤں پیچ کچھ چل نہ سکا
ہم یہ سمجھتے رہے ابھی تک ہم بھی کتنے سیانے ہیں
ہوش و خرد کیا جوش جنوں کیا الٹی گنگا بہتی ہے
کیا فرزانے کیسے سیانے یارو سب دیوانے ہیں
جل بجھنے کی بھی توفیق کہاں عشاق کی قسمت میں
اک ان دیکھی شمع بزم کے دل والے پروانے ہیں
شاعر سے ہمدردی سیکھو دنیا کے غم خانے میں
جتنے غم ہیں دنیا بھر میں اس کے مانے جانے ہیں
شہرِ نگاراں شہرِ نگاراں کون بتائے کیسا ہے
پوچھتے ہو کیا ہم سے یارو ہم بھی تو بیگانے ہیں
بس وہ انہی سے فطرت کو خالوں کے لباس پہناتا ہے
شاعر کے پلے کیا ہے گیتوں کے تانے بانے ہیں
کتنے بیگانے ہوتے ہیں یہ جانے پہچانے لوگ
جانے ہوئے بھی بقول ہمارے انجانے بیگانے ہیں
آج سے پہلے کب تھے وطن میں بے وطنی کے یہ لچھن
لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے گھر بھی غربت خانے ہیں
کچھ نہیں کھلتا کس کی زد میں یہ ہستی گریزاں ہے
ہم جو اتنے بچے پھرتے ہیں کن تیروں کے نشانے ہیں
اس گم کردۂ دیدہ و دل کو کل تک کتنے جانتے تھے
اب تو فراقؔ بے خود کے عالم عالم افسانے ہیں