15 اکتوبر 1933 ۔ 22 ستمبر 2010

محسن احسان
محسن احسان (۱۹۳۲ء تا ۲۰۱۰ء) خیبر پختونخوا کی مٹی سے اٹھنے والے اردو ادب کے وہ معتبر شاعر اور مترجم تھے جنہوں نے پشاور کے ادبی منظر نامے کو ایک عالمی پہچان عطا کی۔ وہ ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت تھے جن کے کلام میں سرحدوں کے آخری سرے کی خوشبو اور جدید عہد کی فکری گہرائی یکجا ملتی ہے۔
مزید

20 ستمبر 1905 ۔ 08 جنوری 1972

باقی صدیقی
باقی صدیقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو اور پنجابی کے شاعر، ادیب، ڈراما نگار، فیچر رائٹر اور صحافی تھے۔ باقی صدیقی نے بے شمار پوٹھوہاری گیت اور پنجابی فیچر لکھے۔ ان کی پنجابی نظموں میں نہ صرف پوٹھوہاری الفاظ بلکہ پورے پوٹھوہاری معاشرہ کی جھلک ملتی ہے۔
مزید

01 اکتوبر 1910 ۔ 01 اکتوبر 1975

ن م راشد
ن م راشد حقیقی معنوں میں ایک رحجان ساز شاعر ہیں۔ لیکن ہم پورے وثوق کے ساتھ ن م راشدؔ کو ایسا شاعر قرار د ے سکتے ہیں کیوں کہ انھوں نے نہ صرف اردو میں آزاد نظم کو متعارف کروایا بلکہ اردو شاعری کو جدت بخشی اور نیا مِزاج عطا کیا۔
مزید

01 اکتوبر 1934 ۔ 12 نومبر 1966

شکیب جلالی
جدید اردو غزل کی آبرو، شکیب جلالی برِّصغیر کے مقبول ترین شاعروں میں سے ایک ہیں۔ اردو ادب کے حلقوں میں پہلے ہی ان کا نام ایک چونکا دینے والے شاعر کے طور پر سامنے آ چکا تھا لیکن جواں سالی میں خودکشی کی وجہ سے ہر خاص و عام کی نظر میں آئے اور اپنی شاندار غزلوں سے لوگوں کے دلوں میں گھر کر گئے
مزید

01 جنوری 1900 ۔ 01 اکتوبر 1974

بہزاد لکھنوی
برصغیر کے ایک معروف شاعر، جن کی پیدائش لکھنؤ میں سن ۱۹۰۰ اور وفات کراچی میں ۱۹۷۴ میں ہوئی۔ قلمی نام بہزاد لکھنوی تھا جبکہ اصل نام سردار حسین خاں اور والد کا نام سجاد حسین خان تھا۔
مزید

18 ستمبر 1879 ۔ 10 اکتوبر 1962

نوحؔ ناروی (۱۸۷۹ء تا ۱۹۶۲ء) اردو غزل کی اس کلاسیکی روایت کے امین تھے جس نے داغؔ دہلوی کے رنگِ سخن کو بیسویں صدی میں زندہ رکھا۔ وہ داغؔ کے ارشد تلامذہ میں سے تھے اور انہیں "جانشینِ داغ" کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔
مزید

رنگ بے رنگ رہا کرتا ہے

حیدر علی آتش


دل بہت تنگ رہا کرتا ہے
رنگ بے رنگ رہا کرتا ہے
حسن میں تیرے کوئی عیب نہیں
قبح میں دنگ رہا کرتا ہے
صلح کی دل سے ہیں یاں مصلحتیں
واں سر جنگ رہا کرتا ہے
محتسب کو ترے مستانوں سے
خوف سرچنگ رہا کرتا ہے
دل مرا پی کے محبت کی شراب
نشہ میں بھنگ رہا کرتا ہے
فارسی عار ہے مجھ مجنوں کو
ننگ سے ننگ رہا کرتا ہے
جوہرِ تیغ دکھاتا ہے حسن
عشق چورنگ رہا کرتا ہے
گفتنی حال نہیں ہے اپنا
کچھ عجب ڈھنگ رہا کرتا ہے
حلب رخ میں ترے خالوں سے
لشکر زنگ رہا کرتا ہے
منزل گور کے دیوانوں کے
سینہ پر سنگ رہا کرتا ہے
عالم وجد ترے مستوں کو
بے دف و چنگ رہا کرتا ہے
فندق دستِ صنم سے نادم
گل اورنگ رہا کرتا ہے
تیرے گوشِ شنوا کا مشتاق
ہر خوش آہنگ رہا کرتا ہے
بندش چست سے تیری آتشؔ
قافیہ تنگ رہا کرتا ہے
فاعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مسدس مخبون محذوف مسکن