25 مارچ 1912 ۔ 06 مئی 1972

سراج الدین ظفر
سراج الدین ظفر اردو زبان کے پاکستان سے تعلق رکھنے و الے نامور شاعر اور افسانہ نگار تھے۔ جنہوں نے اردو شاعری میں اپنا بھرپور تاثر قائم کیا۔
مزید

15 فروری 1914 ۔ 22 مارچ 1982

احسان دانش
احسان دانش ایک دبستان علم و ادب کا نام ہے۔ وہ اردو ادب کے ایک درخشاں عہد کی نشانی ہیں۔ اردو ادب کی کوئی بھی صنف ہو، عالمی ادبیات کی کوئی بھی جہت ہو اور معیار ادب کا کوئی بھی اسلوب ہو ہر جگہ اس لافانی ادیب کے افکار کا پرتو دکھائی دیتی ہے۔
مزید

06 اپریل 1890 ۔ 09 دسمبر 1960

جگر مراد آبادی
جگر مراد آبادی بیسویں صدی کے اردو کے مشہور شاعروں میں سے ایک ہیں۔ بلا کے مے نوش تھے مگر بڑھاپے میں تا ئب ہو گئے تھے
مزید

08 اگست 1960 ۔ 06 اپریل 2019

اکبر معصوم
اکبر معصوم اردو غزل کے ایک نمایاں شاعر تھے۔ سن دوہزار کے قریب اْن کاپہلا شعری مجموعہ ’’اور کہاں تک جانا ہے‘‘ شائع ہوا جسے اردو ادب میں خوب پذیرائی حاصل ہوئی۔
مزید

20 مارچ 1922 ۔ 12 جولائی 1993

سیف الدین سیف
سیف الدین سیفؔ (۱۹۲۲ء تا ۱۹۹۳ء) اردو غزل کے وہ نغمہ گر تھے جن کے لہجے کی مٹھاس اور گداز نے انہیں ہر دل عزیز بنا دیا۔ وہ ایک ایسے فنکار تھے جنہوں نے غزل کی کلاسیکی نفاست کو فلمی نغمہ نگاری کے وسیع کینوس پر اس مہارت سے بکھیرا کہ فلمی گیت بھی ادبِ عالیہ کا حصہ بن گئے۔
مزید

20 اپریل 1918 ۔ 18 مارچ 2007

اختر ہوشیارپوری
نام عبدالسلام اور اختر تخلص ہے۔۲۰؍ اپریل۱۹۱۸ء کو ہوشیار پور، مشرقی پنجاب میں پیدا ہوئے۔ بی اے، ایل ایل بی پنجاب یونیورسٹی سے کیا۔ ۱۹۴۷ء میں پاکستان آگئے اور راول پنڈی میں سکونت اختیارکی۔
مزید

جنہیں بے خودی فنا ملی انہیں زندگی کی خبر بھی ہے

فراق گورکھپوری


جسے لوگ کہتے ہیں تیرگی وہی شب حجاب سحر بھی ہے
جنہیں بے خودی فنا ملی انہیں زندگی کی خبر بھی ہے
ترے اہل دید کو دیکھ کے کبھی کھل سکا ہے یہ راز بھی
انہیں جس نے اہلِ نظر کیا وہ ترا خراب نظر بھی ہے
یہ وصال و ہجر کی بحث کیا کہ عجیب چیز ہے عشق بھی
تجھے پا کے ہے وہی دردِ دل وہی رنگ زخمِ جگر بھی ہے
یہ نصیبِ عشق کی گردشیں کہ زماں مکاں سے گزر کے بھی
وہی آسماں وہی شامِ غم وہی شامِ غم کی سحر بھی ہے
ترے کیف حسن کی جان ہے مری بے دلی و فسردگی
جسے کہتے ہیں غم رائگاں وہ لیے ہوئے کچھ اثر بھی ہے
نہ رہا حیات کی منزلوں میں وہ فرقِ ناز و نیاز بھی
کہ جہاں ہے عشق برہنہ پا وہیں حسن خاک بسر بھی ہے
وہ غمِ فراق بھی کٹ گیا وہ ملال عشق بھی مٹ گیا
مگر آج بھی ترے ہاتھ میں وہی آستیں ہے کہ تر بھی ہے
دم حشر ازل کی بھی یاد کر یہ زبان کیا یہ نگاہ کیا
جو کسی سے آج نہ ہو سکا وہ سوال بارِ دگر بھی ہے
جو وصال و ہجر سے دور ہے جو کرم ستم سے ہے بے خبر
کچھ اٹھا ہوا ہے وہ درد بھی کچھ اٹھی ہوئی وہ نظر بھی ہے
یہ پتہ ہے اس کی عنایتوں نے خراب کتنوں کو کر دیا
یہ خبر ہے نرگس نیم وا کہ گرہ میں فتنۂ شر بھی ہے
اسی شام مرگ کی تیرگی میں ہیں جلوہ ہائے حیات بھی
انہیں ظلمتوں کے حجاب میں یہ چمک یہ رقصِ شرر بھی ہے
وہی درد بھی ہے دوا بھی ہے وہی موت بھی ہے حیات بھی
وہی عشق ناوکِ ناز ہے وہی عشق سینہ سپر بھی ہے
تو زماں مکاں سے گزر بھی جا تو رہِ عدم کو بھی کاٹ لے
وہ ثواب ہو کہ عذاب ہو کہیں زندگی سے مفر بھی ہے
جو گلے تک آ کے اٹک گیا جسے تلخ کام نہ پی سکے
وہ لہو کا گھونٹ اتر گیا تو سنا ہے شیر و شکر بھی ہے
کوئی اہلِ دل کو کمی نہیں مگر اہلِ دل کا یہ قول ہے
ابھی موت بھی نہیں مل سکی ابھی زندگی میں کسر بھی ہے
بڑی چیز دولت و جاہ ہے بڑی وسعتیں ہیں نصیب اسے
مگر اہل دولت و جاہ میں کہیں آدمی کا گزر بھی ہے
یہ شب دراز بھی کٹ گئی وہ ستارے ڈوبے وہ پو پھٹی
سرِ راہ غفلت خواب سے اب اٹھو کہ وقتِ سحر بھی ہے
جو الٹ چکے ہیں بساط دہر کو اگلے وقتوں میں بارہا
وہی آج گردشِ بخت ہے وہی رنگ دور قمر بھی ہے
نہ غم عذاب و ثواب سے کبھی چھیڑ فطرت عشق کو
جو ازل سے مست نگاہ ہے اسے نیک و بد کی خبر بھی ہے
وہ تمام شکر و رضا سہی وہ تمام صبر و سکوں سہی
تو ہے جس سے مائل امتحاں وہ فرشتہ ہے تو بشر بھی ہے
نہ کہو تغافل‌ حسن سے کوئی کار سازی غم کرے
کہ جو آج غم سے نکل گئی وہ دعا خراب اثر بھی ہے
ترے غم کی عمرِ دراز میں کئی انقلاب ہوئے مگر
وہی طول شام فراقؔ ہے وہی انتظارِ سحر بھی ہے
متَفاعلن متَفاعلن متَفاعلن متَفاعلن
کامل مثمن سالم