11 مارچ 1939 ۔ 15 اپریل 2004

عرفان صدیقی
عرفان صدیقی جدید اردو غزل کے ان چند معتبر شعراء میں سے ہیں جنہوں نے کلاسیکی روایت کی روح کو برقرار رکھتے ہوئے اسے عصری حسیت کے ساتھ اس طرح جوڑا کہ ان کا لہجہ منفرد اور توانا ہو گیا۔ ان کی شاعری میں کربلا کا استعارہ اور ہجرت کے دکھ ایک نئے رنگ میں ڈھل کر سامنے آئے۔
مزید

15 اپریل 1951 ۔ 10 فروری 1998

جمال احسانی
جمال احسانی ما بعد جدید پاکستانی شاعروں میں سے ایک، اپنے انفرادی شعری تجربے کے لیے معروف ہوئے۔ جمال احسانی روزنامہ ’’حریت‘، روزنامہ’’سویرا‘‘ اور ’’اظہار‘‘ کراچی سے بھی وابستہ رہے جہاں انھوں نے معاون مدیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اپنا پرچہ ’’رازدار‘‘ بھی نکالتے رہے۔
مزید

11 نومبر 1917 ۔ 13 اپریل 1997

فارغ بخاری
فارغ بخاری (۱۹۱۷ء تا ۱۹۹۷ء) پشتو اور اردو دونوں زبانوں کے ایک نہایت معتبر ادیب، شاعر اور محقق تھے۔ انہوں نے پشاور کی ادبی شناخت کو عالمی سطح پر روشناس کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ نہ صرف ایک ترقی پسند شاعر تھے بلکہ ایک بے باک صحافی اور کمال کے خاکہ نگار بھی تھے۔
مزید

03 اگست 1916 ۔ 20 اپریل 1970

شکیل بدایونی
شکیل بدایونی مشہور ہندوستانی شاعر جنہوں نے سو سے زائد فلموں کے لیے گیت لکھے۔ جو بہت زیادہ مقبول ہوئے۔ جس میں مغل اعظم کے گیت سر فہرست ہیں۔
مزید

20 اپریل 1918 ۔ 18 مارچ 2007

اختر ہوشیارپوری
نام عبدالسلام اور اختر تخلص ہے۔۲۰؍ اپریل۱۹۱۸ء کو ہوشیار پور، مشرقی پنجاب میں پیدا ہوئے۔ بی اے، ایل ایل بی پنجاب یونیورسٹی سے کیا۔ ۱۹۴۷ء میں پاکستان آگئے اور راول پنڈی میں سکونت اختیارکی۔
مزید

10 اپریل 1772 ۔ 16 اگست 1838

امام بخش ناسخ
شیخ امام بخش ناسخ کا شمار اردو کے اساتذہ میں ہوتا ہے۔ ناسخ جب فیض آباد سے لکھنؤ آئے تو ایک رئیس میر کاظم علی سے منسلک ہو گئے جنھوں نے ناسخ کو اپنا بیٹا بنا لیا۔ ان کے انتقال پر اچھی خاصی دولت ناسخ کے ہاتھ آئی۔ انھوں نے لکھنؤ میں بود و باش اختیار کر لی اور فراغت سے بسر کی۔
مزید

جسے کوئی نسبت خاص ہو ترے حسن برق خرام سے

جگر مراد آبادی


اسے حال و قال سے واسطہ نہ غرض مقام و قیام سے
جسے کوئی نسبت خاص ہو ترے حسن برق خرام سے
مجھے دے رہے ہیں تسلیاں وہ ہر ایک تازہ پیام سے
کبھی آ کے منظرِ عام پر کبھی ہٹ کے منظرِ عام سے
کیوں کیا رہا جو مقابلہ خطرات گام بہ گام سے
سرِ بام عشق تمام تک رہ شوق نیم تمام سے
نہ غرض کسی سے نہ واسطہ مجھے کام اپنے ہی کام سے
ترے ذکر سے تری فکر سے تری یاد سے ترے نام سے
مرے ساقیا مرے ساقیا تجھے مرحبا تجھے مرحبا
تو پلائے جا تو پلائے جا اسی چشم جام بہ جام سے
تری صبح عیش ہے کیا بلا تجھے اے فلک جو ہو حوصلہ
کبھی کر لے آ کے مقابلہ غم ہجرِ یار کی شام سے
مجھے یوں نہ خاک میں تو ملا میں اگرچہ ہوں ترا نقشِ پا
ترے جلوے کی ہے بقا مرے شوق نام بہ نام سے
تری چشمِ مست کو کیا کہوں کہ نظر نظر ہے فسوں فسوں
یہ تمام ہوش یہ سب جنوں اسی ایک گردش جام سے
یہ کتاب دل کی ہیں آیتیں میں بتاؤں کیا جو ہیں نسبتیں
مرے سجدہ ہائے دوام کو ترے نقش ہائے خرام سے
مجھے چاہیے وہی ساقیا جو برس چلے جو چھلک چلے
ترے حسن شیشہ بدست سے تری چشم بادہ بہ جام سے
جو اٹھا ہے درد اٹھا کرے کوئی خاک اس سے گلا کرے
جسے ضد ہو حسن کے ذکر سے جسے چڑھ ہو عشق کے نام سے
وہیں چشم حور پھڑک گئی ابھی پی نہ تھی کہ بہک گئی
کبھی یک بیک جو چھلک گئی کسی رند مست کے جام سے
تو ہزار عذر کرے مگر ہمیں رشک ہے اور ہی کچھ جگرؔ
تری اضطراب نگاہ سے ترے احتیاط کلام سے
متَفاعلن متَفاعلن متَفاعلن متَفاعلن
کامل مثمن سالم