15 جون 1922 ۔ 23 اپریل 1991

عزیز حامد مدنی
عزیز حامد مدنی (۱۹۲۲ء تا ۱۹۹۱ء) اردو کی جدید غزل کے ان چند معتبر اور توانا لہجوں میں سے ہیں جنہوں نے غزل کے روایتی کینوس میں جدید فکری اور فلسفیانہ رنگ بھرے۔ وہ ایک نہایت زیرک نقاد، ماہرِ لسانیات اور بلند پایہ شاعر تھے
مزید

04 مئی 1905 ۔ 09 ستمبر 1948

اختر شیرانی
اختر شیرانی نے صرف 43 برس کی عمر پائی اور اس عمر میں انہوں نے نظم و نثر میں اتنا کچھ لکھا کہ بہت کم لوگ اپنی طویل عمر میں اتنا لکھ پاتے ہیں ۔ اردو تنقید پر اختر شیرانی کا جو قرض ہے وہ اسے ابھی تک پوری طرح ادا نہیں کر پائی ہے۔
مزید

05 مئی 1947 ۔ 15 جنوری 1996

محسن نقوی
محسن نقوی (۱۹۴۷ء تا ۱۹۹۶ء) جدید اردو غزل کے ان چند معتبر اور مقبول ترین شعراء میں سے ہیں جنہیں "خوشبوؤں کا شاعر" اور "احساس کا ترجمان" کہا جاتا ہے۔
مزید

25 مارچ 1912 ۔ 06 مئی 1972

سراج الدین ظفر
سراج الدین ظفر اردو زبان کے پاکستان سے تعلق رکھنے و الے نامور شاعر اور افسانہ نگار تھے۔ جنہوں نے اردو شاعری میں اپنا بھرپور تاثر قائم کیا۔
مزید

03 اگست 1916 ۔ 20 اپریل 1970

شکیل بدایونی
شکیل بدایونی مشہور ہندوستانی شاعر جنہوں نے سو سے زائد فلموں کے لیے گیت لکھے۔ جو بہت زیادہ مقبول ہوئے۔ جس میں مغل اعظم کے گیت سر فہرست ہیں۔
مزید

20 اپریل 1918 ۔ 18 مارچ 2007

اختر ہوشیارپوری
نام عبدالسلام اور اختر تخلص ہے۔۲۰؍ اپریل۱۹۱۸ء کو ہوشیار پور، مشرقی پنجاب میں پیدا ہوئے۔ بی اے، ایل ایل بی پنجاب یونیورسٹی سے کیا۔ ۱۹۴۷ء میں پاکستان آگئے اور راول پنڈی میں سکونت اختیارکی۔
مزید

ہے جس کا ہر کرشمہ صبر آزمائے عالم

مصحفی غلام ہمدانی


کب لگ سکے جفا کو اس کی وفائے عالم
ہے جس کا ہر کرشمہ صبر آزمائے عالم
محتاج پھر جہاں میں کوئی نظر نہ آتا
کرتا خدا جو مجھ کو حاجت روائے عالم
ہم کو تو کچھ نہ سوجھا آوے وہی دکھا دے
دیکھا ہو گر کسی نے کچھ یا ورائے عالم
عالم اگر ہے حادث تو مجھ کو تو بتا دے
کیوں اب تلک ہے وہ ہی نشو و نمائے عالم
کوئی کچھ ہی سمجھے اس کو پر اپنی آنکھ میں تو
ساتھ اس حدوث کے ہے ثابت بقائے عالم
وہ بھی نظر میں اپنی اس وقت جلوہ گر ہے
عالم جو کچھ کہ ہو گا بعد از فنائے عالم
آنکھیں تو تجھ کو دی ہیں ٹک دیکھ تو سہی تو
ہے راست کس کے قد پر چسپاں قبائے عالم
عالم میں اور ہم میں اک طرفہ رفتگی ہے
عالم فدا ہے ہم پر ہم ہیں فدائے عالم
ہم ابتدا کی پوچھیں پھر بیٹھ کر حقیقت
ہم کو کوئی بتا دے گر انتہائے عالم
کیا لطف عاشقی کا اب رہ گیا ہماری
یاں آخر جوانی واں ابتدائے عالم
کس غنچہ لب کی مجھ کو یاد آ گئی ہے اس دم
جو تنگ ہو گیا ہے مجھ پر فضائے عالم
ایسے سے داد خواہی محشر میں بھی ستم ہے
ہر ایک غمزہ جس کا ہو خوں بہائے عالم
کب داد کو کسی کی پہنچا وہ روے دل کش
ہم نے تو اس کو پایا حسرت فزائے عالم
جب عالم حیا سے بیگانہ وہ نگہ تھی
پاتے تھے تب بھی اس کو ہم آشنائے عالم
ہیں مصحفیؔ ہم اب تو مانند حادثے کے
دیکھیں ٹلے ہے کس دن سر سے بلائے عالم
مفعول فاعِلاتن مفعول فاعِلاتن
مضارع مثمن اخرب