11 مارچ 1939 ۔ 15 اپریل 2004

عرفان صدیقی
عرفان صدیقی جدید اردو غزل کے ان چند معتبر شعراء میں سے ہیں جنہوں نے کلاسیکی روایت کی روح کو برقرار رکھتے ہوئے اسے عصری حسیت کے ساتھ اس طرح جوڑا کہ ان کا لہجہ منفرد اور توانا ہو گیا۔ ان کی شاعری میں کربلا کا استعارہ اور ہجرت کے دکھ ایک نئے رنگ میں ڈھل کر سامنے آئے۔
مزید

10 اپریل 1910 ۔ 10 مارچ 1981

عبدالحمید عدم
عبد الحمید عدم عبد الحمید عدم پاکستان کے نامور شاعر ہیں جو رومانی غزلوں کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔
مزید

22 اگست 1924 ۔ 12 مارچ 2015

ادا جعفری
ادا جعفری ۱۹۲۴ میں پیدا ہوئیں، ان کے شعری مجموعہ شہر درد کو 1968ء میں آدم جی ادبی انعام ملا۔ شاعری کے بہت سے مجموعہ جات کے علاوہ ’’جو رہی سو بے خبری رہی‘‘ کے نام سے اپنی خود نوشت سوانح عمری بھی 1995ء میں لکھی۔ 1991ء میں حکومت پاکستان نے ادبی خدمات کے اعتراف میں تمغۂ امتیاز سے نوازا۔
مزید

12 نومبر 1915 ۔ 09 مارچ 1996

اختر الایمان
اختر الایمان جدید نظم کے مایہ ناز شاعر ہیں، انہیں 1963ء میں فلم دھرم پوتر میں بہتری مکالمہ کے لیے فلم فیئر اعزاز سے نوازا گیا۔ یہی اعزاز انہیں 1966ء میں فلم ’’وقت‘‘ کے لیے بھی ملا۔ 1962ء میں انہیں اردو میں اپنی خدمات کے لیے ساہتیہ اکیڈمی اعزاز ملا۔ یہ اعزاز ان کا مجموعہ یادیں کے لیے دیا گیا تھا۔
مزید

08 مارچ 1913 ۔ 24 جون 1989

قیوم نظر
قیوم نظر (۱۹۱۴ء تا ۱۹۸۹ء) اردو ادب میں جدید نظم کے ان معماروں میں سے ہیں جنہوں نے "حلقہ اربابِ ذوق" کے پلیٹ فارم سے اردو شاعری کو ایک نئی سمت اور نیا مزاج عطا کیا۔ وہ ایک ایسے تخلیق کار تھے جنہوں نے روایتی بندشوں سے آزاد ہو کر انسانی نفسیات اور مظاہرِ فطرت کو ایک انوکھے انداز میں بیان کیا۔
مزید

01 جون 1938 ۔ 15 مارچ 2015

ماجد صدیقی
ماجد صدیقی اردو اور پنجابی ادب کا وہ قد آور نام ہیں جن کی تخلیقی صلاحیتوں نے دونوں زبانوں کو مالا مال کیا ہے۔ ایک شاعر، مترجم، اور کمال کے نثر نگار کی حیثیت سے ان کا کام جدید ادب میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
مزید

میرے حق میں بھی کچھ سنا ہی دے

ناصر کاظمی


جرمِ انکار کی سزا ہی دے
میرے حق میں بھی کچھ سنا ہی دے
شوق میں ہم نہیں زیادہ طلب
جو ترا ناز کم نگاہی دے
تو نے تاروں سے شب کی مانگ بھری
مجھ کو اک اشکِ صحبگاہی دے
تو نے بنجر زمیں کو پھول دیے
مجھ کو اک زخمِ دل کشا ہی دے
بستیوں کو دیے ہیں تو نے چراغ
دشتِ دل کو بھی کوئی راہی دے
عمر بھر کی نواگری کا صلہ
اے خدا کوئی ہم نوا ہی دے
زرد رو ہیں ورق خیالوں کے
اے شبِ ہجر کچھ سیاہی دے
گر مجالِ سخن نہیں ناصر
لبِ خاموش سے گواہی دے
فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع