15 اکتوبر 1933 ۔ 22 ستمبر 2010

محسن احسان
محسن احسان (۱۹۳۲ء تا ۲۰۱۰ء) خیبر پختونخوا کی مٹی سے اٹھنے والے اردو ادب کے وہ معتبر شاعر اور مترجم تھے جنہوں نے پشاور کے ادبی منظر نامے کو ایک عالمی پہچان عطا کی۔ وہ ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت تھے جن کے کلام میں سرحدوں کے آخری سرے کی خوشبو اور جدید عہد کی فکری گہرائی یکجا ملتی ہے۔
مزید

16 اکتوبر 1930 ۔ 12 اکتوبر 1970

مصطفیٰ زیدی
مصطفیٰ زیدی (۱۹۳۰ء تا ۱۹۷۰ء) جدید اردو غزل کے ان چند چنیدہ شعراء میں سے ہیں جن کے ہاں شدتِ جذبات اور جمالیاتی حسیت اپنے عروج پر ملتی ہے۔ وہ ایک بلند پایہ سرکاری افسر بھی تھے، مگر ان کی اصل شناخت ان کی وہ شاعری بنی جس نے اردو غزل کو ایک نیا رومانوی اور احتجاجی رنگ عطا کیا۔
مزید

14 اکتوبر 1878 ۔ 13 مئی 1951

حسرت موہانی
’’رئیس المتغزلین‘‘ جناب حسرت موہانی بیسویں صدی کے اردو زبان کے مشہور شاعر اور تحریک آزادی ہند کے کارکن تھے۔
مزید

17 اکتوبر 1884 ۔ 04 فروری 1956

یگانہ چنگیزی
یگانہؔ ایک کلاسیکی غزل گو شاعر تھے۔ حالانکہ انہوں نے قطعات و رباعیات بھی کہی ہیں لیکن ان کی اصل پہچان ان کی غزلیں ہی ہیں۔ گو کہ وجہ شہرت یہی ہے کہ خود کو غالب سے بڑا شاعر سمجھتے تھے۔
مزید

12 اکتوبر 1938 ۔ 08 فروری 2016

ندا فاضلی
ندا فاضلی (۱۹۳۸ء تا ۲۰۱۶ء) جدید اردو اور ہندی ادب کا ایک ایسا معتبر نام ہیں جنہوں نے لفظوں کو ایک نیا سماجی اور انسانی تناظر عطا کیا۔ وہ ایک ایسے شاعر تھے جنہوں نے پیچیدہ فلسفوں کو روزمرہ کی سادہ زبان میں ڈھال کر عام آدمی کے دل کی دھڑکن بنا دیا۔
مزید

19 اکتوبر 1911 ۔ 05 دسمبر 1955

اسرار الحق مجاز
مجازؔ کی شاعری اردو میں غنائی شاعری کا بیش بہا نمونہ ہے۔ان کے کلام میں عجیب موسیقیت ہے جو ان کو سبھی دوسرے شعراء سے ممتاز کرتی ہے۔ انھوں نے غزلیں بھی کہیں لیکن وہ بنیادی طور پر نظم کے شاعر تھے۔وہ حسن پرست اور عاشق مزاج شاعر تھے
مزید

سمجھے جو گرمیِ ہنگامہ جلانا دل کا

مصطفٰیٰ خان شیفتہ


ہائے اس برقِ جہاں سوز پر آنا دل کا
سمجھے جو گرمیِ ہنگامہ جلانا دل کا
ہے ترا سلسلۂِ زلف بھی کتنا دل بند
پھنسنے سے پہلے بھی مشکل تھا چھٹانا دل کا
دیکھتے ہم بھی کہ آرام سے سوتے کیوں کر
نہ سنا تم نے کبھی ہائے فسانہ دل کا
ہم سے پوچھیں کہ اسی کھیل میں کھوئی ہے عمر
کھیل جو لوگ سمجھتے ہیں لگانا دل کا
عاقبت چاہِ ذقن میں خبر اس کی پائی
مدتوں سے نہیں لگتا تھا ٹھکانا دل کا
کس طرح دردِ محبت میں جتاؤں اس کو
بھید لڑکوں سے نہیں کہتے ہیں دانا دل کا
ہم یہ سمجھے تھے کہ آرام سے تم رکھو گے
لائیے تم کو ہے منظور ستانا دل کا
ہم بھی کیا سادے ہیں کیا کیا ہے توقع اس سے
آج تک جس نے ذرا حال نہ جانا دل کا
جلوہ گاہِ غم و شادی، دل و شادی کم یاب
کیوں نہ ہو شکوہ سرا ایک زمانہ دل کا
شکل مانندِ پری اور یہ افسونِ وفا
آدمی کا نہیں مقدور بچانا دل کا
شیفتہ ضبط کرو ایسی ہے کیا بے تابی
جو کوئی ہو تمہیں احوال سنانا دل کا
فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع