12 جون 1939 ۔ 18 مئی 1998

عبید اللہ علیم
عبید اللہ علیمؔ (۱۹۳۹ء تا ۱۹۹۸ء) جدید اردو غزل کے ان چند چنیدہ شعراء میں سے ہیں جنہوں نے غزل کے روایتی حسن کو برقرار رکھتے ہوئے اسے ایک نئی معاصر حسیت اور لہجے کا بانکپن عطا کیا۔ انہیں "خوابوں کا شاعر" بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ان کے کلام میں ایک خاص طرح کی رومانوی فضا اور جذباتی سچائی ملتی ہے۔
مزید

15 جون 1922 ۔ 23 اپریل 1991

عزیز حامد مدنی
عزیز حامد مدنی (۱۹۲۲ء تا ۱۹۹۱ء) اردو کی جدید غزل کے ان چند معتبر اور توانا لہجوں میں سے ہیں جنہوں نے غزل کے روایتی کینوس میں جدید فکری اور فلسفیانہ رنگ بھرے۔ وہ ایک نہایت زیرک نقاد، ماہرِ لسانیات اور بلند پایہ شاعر تھے
مزید

15 اگست 1932 ۔ 03 جون 1992

اختر حسین جعفری
اختر حسین جعفری (پیدائش: 15 اگست، 1932ء - وفات: 3 جون، 1992ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کی جدید نظم کے ممتاز شاعر تھے۔
مزید

03 جون 1857 ۔ 18 نومبر 1914

شبلی نعمانی
سرسید احمد خان کے ہمدم جناب علامہ شبلی نعمانی اردو کے بہترین شاعر، دانشور اور محقق تھے۔ 1892ء میں روم اور شام کا سفر کیا۔ 1898ء میں ملازمت ترک کرکے اعظم گڑھ آ گئے۔ 1913ء میں دار المصنفین کی بنیاد ڈالی۔ 1914ء میں انتقال ہوا۔
مزید

17 جون 1920 ۔ 24 مئی 2000

مجروح سلطان پوری
مجروح سلطان پوری (۱۹۱۹ء تا ۲۰۰۰ء) اردو غزل اور فلمی دنیا کا وہ درخشندہ ستارہ ہیں جنہوں نے ثابت کیا کہ ایک نظریاتی شاعر اپنی انقلابی فکر کے ساتھ بھی غزل کی نزاکت اور تغزل کو برقرار رکھ سکتا ہے۔ وہ ترقی پسند تحریک کے صفِ اول کے شعراء میں شامل تھے
مزید

18 جون 1939 ۔ 18 جون 2012

اختر امام رضوی
خطۂ پوٹھوہار کے خوبصورت شاعر اختر امام رضوی ستر اور اسی کی دہائی میں ادبی حلقوں میں بہت متحرک رہے، تقریباً تمام عمر ریڈیو پاکستان راوالپنڈی سے منسلک رہے اور اپنی خوبصورت آواز کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔ انہوں نے نہ صرف ریڈیو بلکہ ٹی وی پر بھی بہت نیا ٹیلیٹ متعارف کروایا
مزید

اب تو کچھ فیصلہ کر جانے کو جی چاہے ہے

کلیم عاجز


کوئے قاتل ہے مگر جانے کو جی چاہے ہے
اب تو کچھ فیصلہ کر جانے کو جی چاہے ہے
لوگ اپنے در و دیوار سے ہوشیار رہیں
آج دیوانے کا گھر جانے کو جی چاہے ہے
درد ایسا ہے کہ جی چاہے ہے زندہ رہئے
زندگی ایسی کہ مر جانے کو جی چاہے ہے
دل کو زخموں کے سواِ کچھ نہ دیا پھولوں نے
اب تو کانٹوں میں اتر جانے کو جی چاہے ہے
چھاؤں وعدوں کی ہے بس دھوکا ہی دھوکا اے دل
مت ٹھہر گرچہ ٹھہر جانے کو جی چاہے ہے
زندگی میں ہے وہ الجھن کہ پریشاں ہو کر
زلف کی طرح بکھر جانے کو جی چاہے ہے
قتل کرنے کی ادا بھی حسیں قاتل بھی حسیں
نہ بھی مرنا ہو تو مر جانے کو جی چاہے ہے
جی یہ چاہے ہے کہ پوچھوں کبھی ان زلفوں سے
کیا تمہارا بھی سنور جانے کو جی چاہے ہے
رسن و دار ادھر کاکل و رخسار ادھر
دل بتا تیرا کدھر جانے کو جی چاہے ہے
فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع