11 نومبر 1917 ۔ 13 اپریل 1997

فارغ بخاری
فارغ بخاری (۱۹۱۷ء تا ۱۹۹۷ء) پشتو اور اردو دونوں زبانوں کے ایک نہایت معتبر ادیب، شاعر اور محقق تھے۔ انہوں نے پشاور کی ادبی شناخت کو عالمی سطح پر روشناس کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ نہ صرف ایک ترقی پسند شاعر تھے بلکہ ایک بے باک صحافی اور کمال کے خاکہ نگار بھی تھے۔
مزید

10 اپریل 1772 ۔ 16 اگست 1838

امام بخش ناسخ
شیخ امام بخش ناسخ کا شمار اردو کے اساتذہ میں ہوتا ہے۔ ناسخ جب فیض آباد سے لکھنؤ آئے تو ایک رئیس میر کاظم علی سے منسلک ہو گئے جنھوں نے ناسخ کو اپنا بیٹا بنا لیا۔ ان کے انتقال پر اچھی خاصی دولت ناسخ کے ہاتھ آئی۔ انھوں نے لکھنؤ میں بود و باش اختیار کر لی اور فراغت سے بسر کی۔
مزید

10 اپریل 1910 ۔ 10 مارچ 1981

عبدالحمید عدم
عبد الحمید عدم عبد الحمید عدم پاکستان کے نامور شاعر ہیں جو رومانی غزلوں کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔
مزید

10 اپریل 1935

اکبر حمیدی
اکبر حمیدی کی پچیس سے زائد کتابیں شائع ہوئیں۔ان میں آٹھ شعری مجموعے، انشائیوں کے پانچ مجموعے،خاکوں کے دو مجموعے،تنقیدی مضامین پر مشتمل دو مجموعے،ریڈیو کالموں کا ایک مجموعہ اور ان کی خود نوشت سوانح شامل ہیں۔
مزید

11 مارچ 1939 ۔ 15 اپریل 2004

عرفان صدیقی
عرفان صدیقی جدید اردو غزل کے ان چند معتبر شعراء میں سے ہیں جنہوں نے کلاسیکی روایت کی روح کو برقرار رکھتے ہوئے اسے عصری حسیت کے ساتھ اس طرح جوڑا کہ ان کا لہجہ منفرد اور توانا ہو گیا۔ ان کی شاعری میں کربلا کا استعارہ اور ہجرت کے دکھ ایک نئے رنگ میں ڈھل کر سامنے آئے۔
مزید

15 اپریل 1951 ۔ 10 فروری 1998

جمال احسانی
جمال احسانی ما بعد جدید پاکستانی شاعروں میں سے ایک، اپنے انفرادی شعری تجربے کے لیے معروف ہوئے۔ جمال احسانی روزنامہ ’’حریت‘، روزنامہ’’سویرا‘‘ اور ’’اظہار‘‘ کراچی سے بھی وابستہ رہے جہاں انھوں نے معاون مدیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اپنا پرچہ ’’رازدار‘‘ بھی نکالتے رہے۔
مزید

سوچتا کیا ہے اتر جا بات کی گہرائی میں

اقبال ساجد


وہ مسلسل چپ ہے تیرے سامنے تنہائی میں
سوچتا کیا ہے اتر جا بات کی گہرائی میں
سرخ رو ہونے نہ پایا تھا کہ پیلا پڑ گیا
چاند کا بھی ہاتھ تھا جذبات کی پسپائی میں
بے لباسی ہی نہ بن جائے کہیں تیرا لباس
آئینے کے سامنے پاگل نہ ہو تنہائی میں
تو اگر پھل ہے تو خود ہی ٹوٹ کر دامن میں آ
میں نہ پھینکوں گا کوئی پتھر تری انگنائی میں
رات بھر وہ اپنے بستر پر پڑا روتا رہا
دور اک آواز بنجر ہو گئی شہنائی میں
دائرے بڑھتے گئے پرکار کا منہ کھل گیا
وہ بھی داخل ہو گیا اب سرحد رسوائی میں
حبس تو دل میں تھا لیکن آنکھ تپ کر رہ گئی
رات سارا شہر ڈوبا درد کی پروائی میں
آنکھ تک بھی اب جھپکنے کی مجھے فرصت نہیں
نقش ہے دیوار پر تصویر ہے بینائی میں
لوگ واپس ہو گئے ساجدؔ نمائش گاہ سے
اور میں کھویا رہا اک محشر رعنائی میں
فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن
رمل مثمن محذوف