04 مئی 1905 ۔ 09 ستمبر 1948

اختر شیرانی
اختر شیرانی نے صرف 43 برس کی عمر پائی اور اس عمر میں انہوں نے نظم و نثر میں اتنا کچھ لکھا کہ بہت کم لوگ اپنی طویل عمر میں اتنا لکھ پاتے ہیں ۔ اردو تنقید پر اختر شیرانی کا جو قرض ہے وہ اسے ابھی تک پوری طرح ادا نہیں کر پائی ہے۔
مزید

09 نومبر 1949 ۔ 09 ستمبر 1996

ثروت حسین
ثروت حسین (۱۹۴۹ء تا ۱۹۹۶ء) جدید اردو غزل کے ان چند شعراء میں شامل ہیں جنہیں "شاعروں کا شاعر" کہا جاتا ہے۔ ان کی شاعری میں جو حیرت، معصومیت اور جمالیاتی وفور ملتا ہے، وہ ان کے ہم عصروں میں مفقود ہے۔ وہ ایک ایسے تخلیق کار تھے جنہوں نے خوابوں اور پرندوں کی زبان میں دکھ کی نئی صورت گری کی۔
مزید

16 نومبر 1846 ۔ 09 ستمبر 1921

سیماب اکبر آبادی
سیماب اکبر آبادی اردو کے نامور اور قادرالکلام شاعر تھے۔ ان کے تقریباً ڈھائی ہزار شاگرد تھے سیماب اکبر آبادی کو ’’تاج الشعرا‘‘، ’’ناخدائے سخن‘‘ بھی کہا گیا۔ داغ دہلوی کے داماد سائل دہلوی سیماب کو جانشینِ داغ کہا کرتے تھے۔
مزید

13 ستمبر 1879 ۔ 27 اگست 1961

فانی بدایونی
فانی بدایونی (۱۸۷۹ء تا ۱۹۴۱ء) اردو غزل کے وہ منفرد شاعر ہیں جنہیں "یاسیت کا امام" کہا جاتا ہے۔ ان کی شاعری غم اور موت کے فلسفے کے گرد گھومتی ہے، مگر اس غم میں ایک ایسی فنی بلندی اور وقار ہے کہ وہ قاری کو مایوس کرنے کے بجائے انسانی وجود کی حقیقتوں پر غور کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
مزید

04 ستمبر 1944 ۔ 20 فروری 1999

غلام محمد قاصر
غلام محمد قاصرؔ (۱۹۴۴ء تا ۱۹۹۹ء) جدید اردو غزل کے ان چند معتبر اور منفرد شعراء میں سے ہیں جنہوں نے اپنی شاعری سے روایت اور جدت کے درمیان ایک ایسا پل تعمیر کیا جس پر چل کر نئی نسل کے بہت سے شعراء نے اپنا راستہ تلاش کیا۔ ان کا لہجہ نہایت شائستہ، دھیما اور فکر انگیز تھا
مزید

17 ستمبر 1857 ۔ 10 نومبر 1912

بیخود بدایونی
اردو غزل کی تاریخ میں بیخود بدایونیؔ کا نام ایک ایسے قادر الکلام شاعر کے طور پر ابھرا جس نے داغ دہلوی کے رنگِ تغزل کو اس کی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ آگے بڑھایا۔ وہ زبان کی صفائی، محاورے کے برجستہ استعمال اور بیان کی شگفتگی میں اپنے استاد کے سچے جانشین معلوم ہوتے ہیں۔
مزید

دیکھتا بھالتا ہر شاخ کو صیاد آیا

داغ دہلوی


کون سا طائر گم گشتہ اسے یاد آیا
دیکھتا بھالتا ہر شاخ کو صیاد آیا
میرے قابو میں نہ پہروں دلِ ناشاد آیا
وہ مرا بھولنے والا جو مجھے یاد آیا
کوئی بھولا ہوا انداز ستم یاد آیا
کہ تبسم تجھے ظالم دم بیداد آیا
لائے ہیں لوگ جنازے کی طرح محشر میں
کس مصیبت سے ترا کشتۂِ بیداد آیا
جذب وحشت ترے قربان ترا کیا کہنا
کھنچ کے رگ رگ میں مرے نشتر فصاد آیا
اس کے جلوے کو غرض کون و مکاں سے کیا تھا
داد لینے کے لیے حسنِ خداداد آیا
بستیوں سے یہی آواز چلی آتی ہے
جو کیا تو نے وہ آگے ترے فرہاد آیا
دلِ ویراں سے رقیبوں نے مرادیں پائیں
کام کس کس کے مرا خرمن برباد آیا
عشق کے آتے ہی منہ پر مرے پھولی ہے بسنت
ہو گیا زرد یہ شاگرد جب استاد آیا
ہو گیا فرض مجھے شوق کا دفتر لکھنا
جب مرے ہاتھ کوئی خامۂِ فولاد آیا
عید ہے قتل مرا اہل تماشا کے لیے
سب گلے ملنے لگے جب کہ وہ جلاد آیا
چین کرتے ہیں وہاں رنج اٹھانے والے
کام عقبیٰ میں ہمارا دلِ ناشاد آیا
دی شبِ وصل موذن نے اذاں پچھلی رات
ہائے کم بخت کو کس وقت خدا یاد آیا
میرے نالے نے سنائی ہے کھری کس کس کو
منہ فرشتوں پہ یہ گستاخ یہ آزاد آیا
غمِ جاوید نے دی مجھ کو مبارک بادی
جب سنا یہ کہ انہیں شیوۂِ بیداد آیا
میں تمنائے شہادت کا مزا بھول گیا
آج اس شوق سے ارمان سے جلاد آیا
شادیانہ جو دیا نالہ و شیون نے دیا
جب ملاقات کو ناشاد کی ناشاد آیا
لیجیے سنئے اب افسانۂِ فرقت مجھ سے
آپ نے یاد دلایا تو مجھے یاد آیا
آپ کی بزم میں سب کچھ ہے مگر داغؔ نہیں
ہم کو وہ خانہ خراب آج بہت یاد آیا
فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع