13 ستمبر 1879 ۔ 27 اگست 1961

فانی بدایونی
فانی بدایونی (۱۸۷۹ء تا ۱۹۴۱ء) اردو غزل کے وہ منفرد شاعر ہیں جنہیں "یاسیت کا امام" کہا جاتا ہے۔ ان کی شاعری غم اور موت کے فلسفے کے گرد گھومتی ہے، مگر اس غم میں ایک ایسی فنی بلندی اور وقار ہے کہ وہ قاری کو مایوس کرنے کے بجائے انسانی وجود کی حقیقتوں پر غور کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
مزید

27 اگست 1931 ۔ 03 اکتوبر 1962

قابل اجمیری
قابل اجمیری (۱۹۳۳ء تا ۱۹۶۲ء) اردو غزل کے ان چند بدنصیب مگر عظیم شعراء میں سے ہیں جنہیں قدرت نے بہت کم وقت دیا، مگر اس قلیل عرصے میں انہوں نے وہ مقام حاصل کر لیا جو صدیوں کی ریاضت سے نصیب ہوتا ہے۔ وہ ایک ایسے نو عمر عبقری تھے جن کے شعور کی پختگی دیکھ کر بڑے بڑے اساتذہ دنگ رہ جاتے تھے۔
مزید

28 اگست 1996 ۔ 03 مارچ 1982

فراق گورکھپوری
فراق گورکھپوری (۱۸۹۶ء تا ۱۹۸۲ء) اردو غزل کے وہ قد آور ستون ہیں جنہوں نے اردو شاعری کو ہندوستانی تہذیب کے رس اور انگریزی ادب کی وسعتِ فکر سے ہم آہنگ کیا۔ وہ ایک ایسے عہد ساز شاعر اور نقاد تھے جن کے بغیر اردو غزل کی تاریخ ادھوری ہے۔
مزید

12 جنوری 1931 ۔ 25 اگست 2008

احمد فراز
خواص اور عوام دونوں میں مقبول، وہ برصغیر کے ان چند شاعروں میں سے ایک تھے جن کی شاعری کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ گایا بھی گیا۔ احمد فراز اپنے عہد کے ان شاعروں میں سے تھے جو ہر بڑے مشاعرے کی مجبوری تھے اوران کے چاہنے والے ان کے اشعار پر بے تحاشہ داد دیا کرتے تھے
مزید

22 اگست 1924 ۔ 12 مارچ 2015

ادا جعفری
ادا جعفری ۱۹۲۴ میں پیدا ہوئیں، ان کے شعری مجموعہ شہر درد کو 1968ء میں آدم جی ادبی انعام ملا۔ شاعری کے بہت سے مجموعہ جات کے علاوہ ’’جو رہی سو بے خبری رہی‘‘ کے نام سے اپنی خود نوشت سوانح عمری بھی 1995ء میں لکھی۔ 1991ء میں حکومت پاکستان نے ادبی خدمات کے اعتراف میں تمغۂ امتیاز سے نوازا۔
مزید

21 اگست 1919 ۔ 12 دسمبر 1994

ظہیر کاشمیری
ظہیر کاشمیری: انقلاب اور رومان کا سنگم
مزید

نہ وہ تم رہے نہ وہ ہم رہے جو رہا تو غم کا سماں رہا

اختر شیرانی


نہ تمہارا حسن جواں رہا نہ ہمارا عشق جواں رہا
نہ وہ تم رہے نہ وہ ہم رہے جو رہا تو غم کا سماں رہا
نہ وہ باغ ہیں نہ گھٹائیں ہیں نہ وہ پھول ہیں نہ فضائیں ہیں
نہ وہ نکہتیں نہ ہوائیں ہیں نہ وہ بے خودی کا سماں رہا
نہ وہ دل ہے اب نہ جوانیاں نہ وہ عاشقی کی کہانیاں
نہ وہ غم نہ اشک فشانیاں نہ وہ دردِ دل کا نشاں رہا
نہ چمن ہے وہ نہ بہار ہے نہ وہ بلبلیں نہ ہزار ہے
یہی چار سمت پکار ہے نہ وہ رت ہے اب نہ سماں رہا
نہ وہ عمر ہے نہ مسرتیں نہ وہ عیش ہے نہ وہ عشرتیں
نہ وہ آرزوئیں نہ حسرتیں نہ خوشی کا نام و نشاں رہا
نہ نشاں ہے ساقی و جام کا نہ وہ بادہ ہائے چمن ادا
نہ مغنیہ رہی محو ساز نہ ساز مست فغاں رہا
یہ بہار گلشن آب و گل ہے فنا اثر تو ہوں کیوں خجل
وہ گل فسردہ ہے میرا دل کہ ہمیشہ نذر خزاں رہا
نہیں صبر ساقیا لا بھی دے قدح بہار اٹھا بھی دے
ابھی سن ہے لا کے پلا بھی دے کہ ہمیشہ کون جواں رہا
کہوں کیا کہ رنج رسیدہ ہوں میں برنگ ابر رمیدہ ہوں
نفس شمیم پریدہ ہوں کہ رہا تباہ جہاں رہا
اثر بہار خزاں اثر ہے کہ ہے فسردہ مری نظر
نہ ہوائے عشرت بال و پر نہ جنون باغ جناں رہا
میں گل رمیدۂ رنگ و بو تو بہار مے کدۂ نمو
میں ہمیشہ خستۂ آرزو تو ہمیشہ عیش جواں رہا
نہ سکونِ دل نہ قرار جاں نہ قیام صبر کوئی زماں
یہ سرشکِ غم کا ہے کارواں کہ یوں ہی ہمیشہ رواں رہا
تو متاع گل کدۂ نظر گل نو بہار بہشت اثر
میں وہ عندلیب شکستہ پر کہ ہمیشہ محوِ فغاں رہا
نہ وہ سوز و ساز دروں ہے اب نہ وہ چشم گل کدۂ گوں ہے اب
نہ وہ سر ہے اب نہ جنوں ہے اب نہ وہ ذوق شعلہ چکاں رہا
ہے فلک کی بدلی ہوئی نظر کہیں کسی سے اخترؔ نالہ گر
کہ میں اس کے جور الم اثر سے ہمیشہ محوِ فغاں رہا
متَفاعلن متَفاعلن متَفاعلن متَفاعلن
کامل مثمن سالم