27 دسمبر 1797 ۔ 15 فروری 1869

مرزا غالب
مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ اردو ادب کا وہ آفتاب ہیں جس کی شعاعیں رہتی دنیا تک فکر و فن کو منور کرتی رہیں گی۔ غالبؔ صرف ایک شاعر نہیں تھے بلکہ ایک عظیم مفکر تھے جنہوں نے انسان کے داخلی وجود اور کائنات کے سربستہ رازوں کو اپنی غزلوں کا موضوع بنایا۔ان کی شاعری ہر عہد اور ہر طبقے کے لیے نیا مفہوم رکھتی ہے
مزید

15 فروری 1914 ۔ 22 مارچ 1982

احسان دانش
احسان دانش ایک دبستان علم و ادب کا نام ہے۔ وہ اردو ادب کے ایک درخشاں عہد کی نشانی ہیں۔ اردو ادب کی کوئی بھی صنف ہو، عالمی ادبیات کی کوئی بھی جہت ہو اور معیار ادب کا کوئی بھی اسلوب ہو ہر جگہ اس لافانی ادیب کے افکار کا پرتو دکھائی دیتی ہے۔
مزید

15 فروری 1935

بشیر بدر
سید محمد بشیر، بشیر بدر کے نام سے مشہور ہیں۔ ان کی پیدائش 15 فروری 1935 میں، بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر ایودھیا میں ہوئی۔
مزید

14 فروری 1920 ۔ 14 فروری 2015

کلیم عاجز
کلیم عاجز (۱۹۲۶ء تا ۲۰۱۵ء) اردو غزل کے ان آخری درویشوں میں سے تھے جنہوں نے جدید دور میں میر تقی میرؔ کے سوز و گداز اور سادگی کو دوبارہ زندہ کیا۔ وہ ایک ایسی منفرد شخصیت تھے جن کی شاعری میں دل کا لہو اور آنکھوں کے آنسو لفظ بن کر ڈھل گئے تھے
مزید

13 فروری 1911 ۔ 20 نومبر 1984

فیض احمد فیض
اردو کے مشہور شاعراور انجمن ترقی پسند مصنفین تحریک کے فعال رکن اور ایک ممتاز اِشتراکیت سٹالنسٹ فکر کے کمیونسٹ تھے۔
مزید

15 اپریل 1951 ۔ 10 فروری 1998

جمال احسانی
جمال احسانی ما بعد جدید پاکستانی شاعروں میں سے ایک، اپنے انفرادی شعری تجربے کے لیے معروف ہوئے۔ جمال احسانی روزنامہ ’’حریت‘، روزنامہ’’سویرا‘‘ اور ’’اظہار‘‘ کراچی سے بھی وابستہ رہے جہاں انھوں نے معاون مدیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اپنا پرچہ ’’رازدار‘‘ بھی نکالتے رہے۔
مزید

مجبور غم اتنے بھی مجبور نہیں ہوتے

فانی بدایونی


ہم موت بھی آئے تو مسرور نہیں ہوتے
مجبور غم اتنے بھی مجبور نہیں ہوتے
دل ہی میں نہیں رہتے آنکھوں میں بھی رہتے ہو
تم دور بھی رہتے ہو تو دور نہیں ہوتے
پڑتی ہیں ابھی دل پر شرمائی ہوئی نظریں
جو وار وہ کرتے ہیں بھرپور نہیں ہوتے
امید کے وعدوں سے جی کچھ تو بہلتا تھا
اب یہ بھی ترے غم کو منظور نہیں ہوتے
ارباب محبت پر تم ظلم کے بانی ہو
یہ ورنہ محبت کے دستور نہیں ہوتے
کونین پہ بھاری ہے اللہ رے غرور ان کا
اتنے بھی ادا والے مغرور نہیں ہوتے
ہے عشق ترا فانیؔ تشہیر بھی شہرت بھی
رسوائے محبت یوں مشہور نہیں ہوتے
مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن
ہزج مثمن اخرب سالم