08 مارچ 1913 ۔ 24 جون 1989

قیوم نظر
قیوم نظر (۱۹۱۴ء تا ۱۹۸۹ء) اردو ادب میں جدید نظم کے ان معماروں میں سے ہیں جنہوں نے "حلقہ اربابِ ذوق" کے پلیٹ فارم سے اردو شاعری کو ایک نئی سمت اور نیا مزاج عطا کیا۔ وہ ایک ایسے تخلیق کار تھے جنہوں نے روایتی بندشوں سے آزاد ہو کر انسانی نفسیات اور مظاہرِ فطرت کو ایک انوکھے انداز میں بیان کیا۔
مزید

12 نومبر 1915 ۔ 09 مارچ 1996

اختر الایمان
اختر الایمان جدید نظم کے مایہ ناز شاعر ہیں، انہیں 1963ء میں فلم دھرم پوتر میں بہتری مکالمہ کے لیے فلم فیئر اعزاز سے نوازا گیا۔ یہی اعزاز انہیں 1966ء میں فلم ’’وقت‘‘ کے لیے بھی ملا۔ 1962ء میں انہیں اردو میں اپنی خدمات کے لیے ساہتیہ اکیڈمی اعزاز ملا۔ یہ اعزاز ان کا مجموعہ یادیں کے لیے دیا گیا تھا۔
مزید

10 اپریل 1910 ۔ 10 مارچ 1981

عبدالحمید عدم
عبد الحمید عدم عبد الحمید عدم پاکستان کے نامور شاعر ہیں جو رومانی غزلوں کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔
مزید

11 مارچ 1939 ۔ 15 اپریل 2004

عرفان صدیقی
عرفان صدیقی جدید اردو غزل کے ان چند معتبر شعراء میں سے ہیں جنہوں نے کلاسیکی روایت کی روح کو برقرار رکھتے ہوئے اسے عصری حسیت کے ساتھ اس طرح جوڑا کہ ان کا لہجہ منفرد اور توانا ہو گیا۔ ان کی شاعری میں کربلا کا استعارہ اور ہجرت کے دکھ ایک نئے رنگ میں ڈھل کر سامنے آئے۔
مزید

28 اگست 1996 ۔ 03 مارچ 1982

فراق گورکھپوری
فراق گورکھپوری (۱۸۹۶ء تا ۱۹۸۲ء) اردو غزل کے وہ قد آور ستون ہیں جنہوں نے اردو شاعری کو ہندوستانی تہذیب کے رس اور انگریزی ادب کی وسعتِ فکر سے ہم آہنگ کیا۔ وہ ایک ایسے عہد ساز شاعر اور نقاد تھے جن کے بغیر اردو غزل کی تاریخ ادھوری ہے۔
مزید

22 اگست 1924 ۔ 12 مارچ 2015

ادا جعفری
ادا جعفری ۱۹۲۴ میں پیدا ہوئیں، ان کے شعری مجموعہ شہر درد کو 1968ء میں آدم جی ادبی انعام ملا۔ شاعری کے بہت سے مجموعہ جات کے علاوہ ’’جو رہی سو بے خبری رہی‘‘ کے نام سے اپنی خود نوشت سوانح عمری بھی 1995ء میں لکھی۔ 1991ء میں حکومت پاکستان نے ادبی خدمات کے اعتراف میں تمغۂ امتیاز سے نوازا۔
مزید

دم اب اکتا گیا اللٰہ اکبر کب سے جیتے ہیں

شاد عظیم آبادی


خضر کیا ہم تو اس جینے میں بازی سب سے جیتے ہیں
دم اب اکتا گیا اللٰہ اکبر کب سے جیتے ہیں
سمجھ لے قاصدوں نے کچھ تو ایسی ہی خبر دی ہے
کہیں کیا تجھ سے اے ناصح کہ جس مطلب سے جیتے ہیں
کسی حالت نہ ہم سے بڑھ سکے گی رات فرقت کی
کہ ہم بازی سیہ بختی میں بھی اس شب سے جیتے ہیں
دم اپنا گھٹ کے کب کا ہجر جاناں میں نکل جاتا
مددگاری شور نعرۂ یا رب سے جیتے ہیں
اسے باور کر اے غم خوار کب کے مر گئے ہوتے
پیام وصل جب سے سن لیا ہے تب سے جیتے ہیں
زباں قابو میں ہے سننے کو تشبیہیں سنے جاؤٔ
نزاکت میں کہاں اوراقِ گل اس لب سے جیتے ہیں
عبث دریافت کرتے ہو سبب اس سخت جانی کا
خدا جانے کہ ہم اے شادؔ کس مطلب سے جیتے ہیں
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
ہزج مثمن سالم