02 فروری 1923 ۔ 14 اگست 2005

ضیا جالندھری
ضیا جالندھری: جدید اردو نظم کا معتبر نام اور حلقہ اربابِ ذوق کے ترجمان
مزید

15 اگست 1932 ۔ 03 جون 1992

اختر حسین جعفری
اختر حسین جعفری (پیدائش: 15 اگست، 1932ء - وفات: 3 جون، 1992ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کی جدید نظم کے ممتاز شاعر تھے۔
مزید

10 اپریل 1772 ۔ 16 اگست 1838

امام بخش ناسخ
شیخ امام بخش ناسخ کا شمار اردو کے اساتذہ میں ہوتا ہے۔ ناسخ جب فیض آباد سے لکھنؤ آئے تو ایک رئیس میر کاظم علی سے منسلک ہو گئے جنھوں نے ناسخ کو اپنا بیٹا بنا لیا۔ ان کے انتقال پر اچھی خاصی دولت ناسخ کے ہاتھ آئی۔ انھوں نے لکھنؤ میں بود و باش اختیار کر لی اور فراغت سے بسر کی۔
مزید

08 اگست 1960 ۔ 06 اپریل 2019

اکبر معصوم
اکبر معصوم اردو غزل کے ایک نمایاں شاعر تھے۔ سن دوہزار کے قریب اْن کاپہلا شعری مجموعہ ’’اور کہاں تک جانا ہے‘‘ شائع ہوا جسے اردو ادب میں خوب پذیرائی حاصل ہوئی۔
مزید

08 فروری 1914 ۔ 18 اگست 1976

جاں نثار اختر
جاں نثار اختر: رومان و انقلاب کا سنگم اور نغمہ گو شاعر
مزید

31 جنوری 1933 ۔ 18 اگست 1985

شاذ تمکنت
شاذ تمکنت (۱۹۳۳ء تا ۱۹۸۵ء) جدید اردو غزل کے ان چند معتبر شعراء میں سے ہیں جنہوں نے حیدرآباد دکن کی کلاسیکی ادبی روایت کو جدید فکری جہتوں کے ساتھ زندہ رکھا۔
مزید

بے اجل واں ایک دو ہر رات مر جاتا رہا

حیدر علی آتش


اس کے کوچے میں مسیحا ہر سحر جاتا رہا
بے اجل واں ایک دو ہر رات مر جاتا رہا
کوئے جاناں میں بھی اب اس کا پتہ ملتا نہیں
دل مرا گھبرا کے کیا جانے کدھر جاتا رہا
جانب کہسار جا نکلا جو میں تو کوہ کن
اپنا تیشہ میرے سر سے مار کر جاتا رہا
نے کشش معشوق میں پاتا ہوں نے عاشق میں جذب
کیا بلا آئی محبت کا اثر جاتا رہا
واہ رے اندھیر بہر روشنی شہر مصر
دیدۂِ یعقوب سے نورِ نظر جاتا رہا
نشہ ہی میں یا الٰہی میکشوں کو موت دے
کیا گہر کی قدر جب آب گہر جاتا رہا
اک نہ اک مونس کی فرقت کا فلک نے غم دیا
دردِ دل پیدا ہوا دردِ جگر جاتا رہا
حسن کھو کر آشنا ہم سے ہوا وہ نونہال
پہنچے تب زیر شجر ہم جب ثمر جاتا رہا
رنجِ دنیا سے فراغ ایذا دہندوں کو نہیں
کب تپ شیرا اتری کس دن دردِ سر جاتا رہا
فاتحہ پڑھنے کو آئے قبر آتشؔ پر نہ یار
دو ہی دن میں پاس الفت اس قدر جاتا رہا