12 نومبر 1923 ۔ 02 ستمبر 2002

احمد راہی
احمد راہی معروف پنجابی شاعر، فلمی کہانی نویس اور نغمہ نگار تھے۔ انہوں نے زیادہ تر پنجابی فلموں میں اپنی خدمات دیں، بطور کہانی نویس ان کی یادگار فلموں میں مرزا جٹ، ہیر رانجھا، ناجو، گُڈو، اُچّا شملہ جٹ دا مشہور ہے کئی فلموں کے گیت لکھے۔
مزید

28 اگست 1996 ۔ 03 مارچ 1982

فراق گورکھپوری
فراق گورکھپوری (۱۸۹۶ء تا ۱۹۸۲ء) اردو غزل کے وہ قد آور ستون ہیں جنہوں نے اردو شاعری کو ہندوستانی تہذیب کے رس اور انگریزی ادب کی وسعتِ فکر سے ہم آہنگ کیا۔ وہ ایک ایسے عہد ساز شاعر اور نقاد تھے جن کے بغیر اردو غزل کی تاریخ ادھوری ہے۔
مزید

04 ستمبر 1944 ۔ 20 فروری 1999

غلام محمد قاصر
غلام محمد قاصرؔ (۱۹۴۴ء تا ۱۹۹۹ء) جدید اردو غزل کے ان چند معتبر اور منفرد شعراء میں سے ہیں جنہوں نے اپنی شاعری سے روایت اور جدت کے درمیان ایک ایسا پل تعمیر کیا جس پر چل کر نئی نسل کے بہت سے شعراء نے اپنا راستہ تلاش کیا۔ ان کا لہجہ نہایت شائستہ، دھیما اور فکر انگیز تھا
مزید

13 ستمبر 1879 ۔ 27 اگست 1961

فانی بدایونی
فانی بدایونی (۱۸۷۹ء تا ۱۹۴۱ء) اردو غزل کے وہ منفرد شاعر ہیں جنہیں "یاسیت کا امام" کہا جاتا ہے۔ ان کی شاعری غم اور موت کے فلسفے کے گرد گھومتی ہے، مگر اس غم میں ایک ایسی فنی بلندی اور وقار ہے کہ وہ قاری کو مایوس کرنے کے بجائے انسانی وجود کی حقیقتوں پر غور کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
مزید

27 اگست 1931 ۔ 03 اکتوبر 1962

قابل اجمیری
قابل اجمیری (۱۹۳۳ء تا ۱۹۶۲ء) اردو غزل کے ان چند بدنصیب مگر عظیم شعراء میں سے ہیں جنہیں قدرت نے بہت کم وقت دیا، مگر اس قلیل عرصے میں انہوں نے وہ مقام حاصل کر لیا جو صدیوں کی ریاضت سے نصیب ہوتا ہے۔ وہ ایک ایسے نو عمر عبقری تھے جن کے شعور کی پختگی دیکھ کر بڑے بڑے اساتذہ دنگ رہ جاتے تھے۔
مزید

12 جنوری 1931 ۔ 25 اگست 2008

احمد فراز
خواص اور عوام دونوں میں مقبول، وہ برصغیر کے ان چند شاعروں میں سے ایک تھے جن کی شاعری کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ گایا بھی گیا۔ احمد فراز اپنے عہد کے ان شاعروں میں سے تھے جو ہر بڑے مشاعرے کی مجبوری تھے اوران کے چاہنے والے ان کے اشعار پر بے تحاشہ داد دیا کرتے تھے
مزید

اے ہوش ورنہ مجھ کو ترا احترام ہے

عبدالحمید عدم


مشکل یہ آ پڑی ہے کہ گردش میں جام ہے
اے ہوش ورنہ مجھ کو ترا احترام ہے
فرصت کا وقت ڈھونڈ کے ملنا کبھی اجل
تجھ کو بھی کام ہے ابھی مجھ کو بھی کام ہے
آتی بہت قریب سے خوشبو ہے یار کی
جاری ادھر ادھر ہی کہیں دورِ جام ہے
کچھ زہر کو ترستے ہیں کچھ مے میں غرق ہیں
ساقی یہ تیری بزم کا کیا انتظام ہے
مے اور حرام؟ حضرت زاہد خدا کا خوف
وہ تو کہا گیا تھا کہ مستی حرام ہے
اے زلف عنبریں ذرا لہرا کے پھیلنا
اک رات اس چمن میں مرا بھی قیام ہے
اے زندگی تو آپ ہی چپکے سے دیکھ لے
جام عدمؔ پہ لکھا ہوا کس کا نام ہے
مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف