05 دسمبر 1898 ۔ 22 فروری 1982

جوش ملیح آبادی
جوش ملیح آبادی (پیدائش: 5 دسمبر 1898ء - وفات: 22 فروری 1983ء) پورا نام شبیر حسین خاں جوش ملیح آبادی اردو ادب کے نامور اور قادر الکلام شاعر تھے۔ آپ آفریدی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ شاعر انقلاب کے لقب سے بھی جانے جاتے ہیں۔
مزید

08 دسمبر 1925 ۔ 02 مارچ 1972

ناصر کاظمی
ناصر کاظمی (۱۹۲۵ء تا ۱۹۷۲ء) جدید اردو غزل کے وہ آبرو ہیں جنہوں نے ہجرت کے دکھ اور ماضی کی یادوں کو ایک نئی جمالیاتی زبان عطا کی۔ وہ میر تقی میرؔ کی روایت کے سچے جانشین تھے، مگر ان کا دکھ انفرادی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک پوری نسل کا نوحہ بھی تھا۔
مزید

28 اگست 1996 ۔ 03 مارچ 1982

فراق گورکھپوری
فراق گورکھپوری (۱۸۹۶ء تا ۱۹۸۲ء) اردو غزل کے وہ قد آور ستون ہیں جنہوں نے اردو شاعری کو ہندوستانی تہذیب کے رس اور انگریزی ادب کی وسعتِ فکر سے ہم آہنگ کیا۔ وہ ایک ایسے عہد ساز شاعر اور نقاد تھے جن کے بغیر اردو غزل کی تاریخ ادھوری ہے۔
مزید

04 ستمبر 1944 ۔ 20 فروری 1999

غلام محمد قاصر
غلام محمد قاصرؔ (۱۹۴۴ء تا ۱۹۹۹ء) جدید اردو غزل کے ان چند معتبر اور منفرد شعراء میں سے ہیں جنہوں نے اپنی شاعری سے روایت اور جدت کے درمیان ایک ایسا پل تعمیر کیا جس پر چل کر نئی نسل کے بہت سے شعراء نے اپنا راستہ تلاش کیا۔ ان کا لہجہ نہایت شائستہ، دھیما اور فکر انگیز تھا
مزید

08 مارچ 1913 ۔ 24 جون 1989

قیوم نظر
قیوم نظر (۱۹۱۴ء تا ۱۹۸۹ء) اردو ادب میں جدید نظم کے ان معماروں میں سے ہیں جنہوں نے "حلقہ اربابِ ذوق" کے پلیٹ فارم سے اردو شاعری کو ایک نئی سمت اور نیا مزاج عطا کیا۔ وہ ایک ایسے تخلیق کار تھے جنہوں نے روایتی بندشوں سے آزاد ہو کر انسانی نفسیات اور مظاہرِ فطرت کو ایک انوکھے انداز میں بیان کیا۔
مزید

27 دسمبر 1797 ۔ 15 فروری 1869

مرزا غالب
مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ اردو ادب کا وہ آفتاب ہیں جس کی شعاعیں رہتی دنیا تک فکر و فن کو منور کرتی رہیں گی۔ غالبؔ صرف ایک شاعر نہیں تھے بلکہ ایک عظیم مفکر تھے جنہوں نے انسان کے داخلی وجود اور کائنات کے سربستہ رازوں کو اپنی غزلوں کا موضوع بنایا۔ان کی شاعری ہر عہد اور ہر طبقے کے لیے نیا مفہوم رکھتی ہے
مزید

تو پھر انصاف ہو گا اے بتِ خودِ سر کہاں میرا

قمر جلالوی


تو کہتا ہے قبضہ ہے یہاں میرا وہاں میرا
تو پھر انصاف ہو گا اے بتِ خودِ سر کہاں میرا
چلے آؤ یہاں گورِ غریباں میں نہیں کوئی
فقط اک بے کسی ہے جو بتاتی ہے نشاں میرا
قمر میں شاہِ شب ہوں فوق رکھتا ہوں ستاروں پر
زمانے بھر پہ روشن ہے کہ ہے تخت آسماں میرا
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
ہزج مثمن سالم