04 اگست 1899 ۔ 07 فروری 1978

صوفی تبسّم
صوفی غلام مصطفیٰ تبسمؔ اردو اور فارسی کے وہ قد آور ادیب اور شاعر ہیں جنہوں نے بیک وقت بڑوں کے لیے سنجیدہ فکر و فلسفہ اور بچوں کے لیے "ٹوٹ بٹوٹ" جیسی لازوال دنیا تخلیق کی۔ ان کی شخصیت علم و حلم کا ایک ایسا سنگم تھی جس نے نسل در نسل لوگوں کی علمی و جذباتی آبیاری کی۔
مزید

01 جنوری 1926 ۔ 05 اگست 1982

رئیس فروغؔ
رئیس فروغ: جدید اردو غزل کا ایک دھیما اور گہرا لہجہ
مزید

03 اگست 1916 ۔ 20 اپریل 1970

شکیل بدایونی
شکیل بدایونی مشہور ہندوستانی شاعر جنہوں نے سو سے زائد فلموں کے لیے گیت لکھے۔ جو بہت زیادہ مقبول ہوئے۔ جس میں مغل اعظم کے گیت سر فہرست ہیں۔
مزید

01 اگست 1790 ۔ 01 نومبر 1854

شیخ ابراہیم ذوق
مغلیہ سلطنت کے برائے نام بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے عہد میں، ملک الشعراء کے خطاب سے نوازے جانے والے ذوق اپنے زمانہ کے دوسرے اہم شاعروں غالب اور مومن سے بڑے شاعر مانے جاتے تھے.
مزید

29 نومبر 1913 ۔ 01 اگست 2000

علی سردار جعفری
علی سردار جعفری (۱۹۱۳ء تا ۲۰۰۰ء) ترقی پسند تحریک کے ان جلیل القدر ستونوں میں سے تھے جنہوں نے اپنی شاعری کو انسانی حقوق، امن اور سماجی انصاف کا ترجمان بنایا۔ وہ ایک انقلابی شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک گہرے نقاد، مدبر اور صحافی بھی تھے۔ ان کی زندگی کا مقصد قلم کے ذریعے ایک ایسی دنیا کی تشکیل تھی جہاں
مزید

08 اگست 1960 ۔ 06 اپریل 2019

اکبر معصوم
اکبر معصوم اردو غزل کے ایک نمایاں شاعر تھے۔ سن دوہزار کے قریب اْن کاپہلا شعری مجموعہ ’’اور کہاں تک جانا ہے‘‘ شائع ہوا جسے اردو ادب میں خوب پذیرائی حاصل ہوئی۔
مزید

دستار جنہیں دی ہے انہیں سر بھی عطا کر

قتیل شفائی


شرمندہ انہیں اور بھی اے میرے خدا کر
دستار جنہیں دی ہے انہیں سر بھی عطا کر
لوٹا ہے سدا جس نے ہمیں دوست بنا کر
ہم خوش ہیں اسی شخص سے پھر ہاتھ ملا کر
ڈر ہے کہ نہ لے جائے وہ ہم کو بھی چرا کر
ہم لائے ہیں گھر میں جسے مہمان بنا کر
اک موج دبے پاؤں تعاقب میں چلی آئی
ہم خوش تھے بہت ریت کی دیوار بنا کر
ہم چاہیں کہ مل جائیں ہمیں ڈھیر سے موتی
سیڑھی کسی پر ہول سمندر میں لگا کر
درکار اجالا ہے مگر سہمے ہوئے ہیں
کر دے نہ اندھیرا کوئی بارود جلا کر
لے اس نے ترا کاسۂ جاں توڑ ہی ڈالا
جا کوچۂ قاتل میں قتیلؔ اور صدا کر
مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن
ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف