08 دسمبر 1925 ۔ 02 مارچ 1972

ناصر کاظمی
ناصر کاظمی (۱۹۲۵ء تا ۱۹۷۲ء) جدید اردو غزل کے وہ آبرو ہیں جنہوں نے ہجرت کے دکھ اور ماضی کی یادوں کو ایک نئی جمالیاتی زبان عطا کی۔ وہ میر تقی میرؔ کی روایت کے سچے جانشین تھے، مگر ان کا دکھ انفرادی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک پوری نسل کا نوحہ بھی تھا۔
مزید

28 اگست 1996 ۔ 03 مارچ 1982

فراق گورکھپوری
فراق گورکھپوری (۱۸۹۶ء تا ۱۹۸۲ء) اردو غزل کے وہ قد آور ستون ہیں جنہوں نے اردو شاعری کو ہندوستانی تہذیب کے رس اور انگریزی ادب کی وسعتِ فکر سے ہم آہنگ کیا۔ وہ ایک ایسے عہد ساز شاعر اور نقاد تھے جن کے بغیر اردو غزل کی تاریخ ادھوری ہے۔
مزید

05 دسمبر 1898 ۔ 22 فروری 1982

جوش ملیح آبادی
جوش ملیح آبادی (پیدائش: 5 دسمبر 1898ء - وفات: 22 فروری 1983ء) پورا نام شبیر حسین خاں جوش ملیح آبادی اردو ادب کے نامور اور قادر الکلام شاعر تھے۔ آپ آفریدی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ شاعر انقلاب کے لقب سے بھی جانے جاتے ہیں۔
مزید

04 ستمبر 1944 ۔ 20 فروری 1999

غلام محمد قاصر
غلام محمد قاصرؔ (۱۹۴۴ء تا ۱۹۹۹ء) جدید اردو غزل کے ان چند معتبر اور منفرد شعراء میں سے ہیں جنہوں نے اپنی شاعری سے روایت اور جدت کے درمیان ایک ایسا پل تعمیر کیا جس پر چل کر نئی نسل کے بہت سے شعراء نے اپنا راستہ تلاش کیا۔ ان کا لہجہ نہایت شائستہ، دھیما اور فکر انگیز تھا
مزید

08 مارچ 1913 ۔ 24 جون 1989

قیوم نظر
قیوم نظر (۱۹۱۴ء تا ۱۹۸۹ء) اردو ادب میں جدید نظم کے ان معماروں میں سے ہیں جنہوں نے "حلقہ اربابِ ذوق" کے پلیٹ فارم سے اردو شاعری کو ایک نئی سمت اور نیا مزاج عطا کیا۔ وہ ایک ایسے تخلیق کار تھے جنہوں نے روایتی بندشوں سے آزاد ہو کر انسانی نفسیات اور مظاہرِ فطرت کو ایک انوکھے انداز میں بیان کیا۔
مزید

12 نومبر 1915 ۔ 09 مارچ 1996

اختر الایمان
اختر الایمان جدید نظم کے مایہ ناز شاعر ہیں، انہیں 1963ء میں فلم دھرم پوتر میں بہتری مکالمہ کے لیے فلم فیئر اعزاز سے نوازا گیا۔ یہی اعزاز انہیں 1966ء میں فلم ’’وقت‘‘ کے لیے بھی ملا۔ 1962ء میں انہیں اردو میں اپنی خدمات کے لیے ساہتیہ اکیڈمی اعزاز ملا۔ یہ اعزاز ان کا مجموعہ یادیں کے لیے دیا گیا تھا۔
مزید

میرا مشیر عشق سا خانہ خراب تھا

ظہیر کاشمیری


مرنا عذاب تھا کبھی جینا عذاب تھا
میرا مشیر عشق سا خانہ خراب تھا
دل مر مٹا تلاوت رخسارِ یار میں
مرحوم طفلگی سے ہی اہلِ کتاب تھا
سوچا تو اس حبیب کو پایا قریب جاں
دیکھا تو آستیں میں چھپا آفتاب تھا
وہ بارگاہ میری وفا کا جواز تھی
اس آستاں کی خاک مرا ہی شباب تھا
میری ہر ایک صبح تھی آغوش دلبری
میری ہر ایک شام کا عنواں شراب تھا
دل بھی صنم پرست نظر بھی صنم پرست
اس عاشقی میں خانہ ہمہ آفتاب تھا
کب اس سیاہ بخت نے چھوڑا کسی کا ساتھ
دشتِ جنوں میں سایہ مرا ہم رکاب تھا
تو کب مآل‌ جور و جفا کو سمجھ سکا
تیرا جمال تیرے لیے بھی حجاب تھا
جس دور کو فقیہ نے عصیاں سمجھ لیا
اس دور میں تو پی کے بہکنا ثواب تھا
وہ حسن کس قدر ادب آموز تھا ظہیرؔ
قد خامۂ رواں تھا تو چہرہ کتاب تھا
مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف