29 جون 1914 ۔ 11 مئی 1974

مجید امجد
مجید امجدؔ اردو نظم کا وہ ہمالہ ہیں جس کی بلندی کا اندازہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہو رہا ہے۔ وہ ایک ایسے منفرد تخلیق کار تھے جنہوں نے کائنات کے ذرے ذرے میں زندگی کا سراغ لگایا اور اردو نظم کو وہ وسعت عطا کی جو اس سے پہلے خواب لگتی تھی۔
مزید

10 جولائی 1935 ۔ 11 مئی 1991

عالم تاب تشنہ
نام سید عالم تاب علی اور تخلص تشنہ تھا۔۲۰؍اپریل ۱۹۳۵ء کو میرٹھ میں پید اہوئے۔ میرٹھ سے ایم اے کیا۔ اپریل ۱۹۵۹ء میں پاکستان آگئے۔
مزید

14 جنوری 1919 ۔ 10 مئی 2002

کیفی اعظمی
کیفی اعظمی (۱۹۱۸ء تا ۲۰۰۲ء) ترقی پسند تحریک کے ان ستونوں میں سے ہیں جنہوں نے شاعری کو محلوں اور خوابوں سے نکال کر مزدوروں کی بستیوں اور انقلاب کے میدانوں تک پہنچا دیا۔
مزید

14 اکتوبر 1878 ۔ 13 مئی 1951

حسرت موہانی
’’رئیس المتغزلین‘‘ جناب حسرت موہانی بیسویں صدی کے اردو زبان کے مشہور شاعر اور تحریک آزادی ہند کے کارکن تھے۔
مزید

14 مئی 1800 ۔ 14 مئی 1851

مومن خان مومن
حکیم مومن خان مومنؔ (۱۸۰۰ء تا ۱۸۵۱ء) اردو غزل کے ان تین ستونوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے دہلی کی شعری روایت کو بامِ عروج پر پہنچایا۔ جہاں غالبؔ اپنی فکر اور ذوقؔ اپنی زبان دانی کے لیے مشہور تھے، وہاں مومنؔ اپنے مخصوص تغزل، معاملہ بندی اور نازک خیالی کی وجہ سے ممتاز تھے۔
مزید

14 مئی 1936

زہرا نگاہ
زہرا نگاہ پاکستان سے تعلق رکھنے و الی اردو زبان کی نامور شاعرہ ہیں۔مشہور ڈراما نویس فاطمہ ثریا بجیا آپ کی بڑی بہن اور مقبول عام ہمہ جہت رائٹر انور مقصود بھائی ہیں۔
مزید

بس ایک صبح یوں ہی خلق سے کنارہ کیا

جمال احسانی


نہ کوئی فال نکالی نہ استخارہ کیا
بس ایک صبح یوں ہی خلق سے کنارہ کیا
نکل پڑیں گے گھروں سے تمام سیارے
اگر زمین نے ہلکا سا اک اشارہ کیا
جو دل کے طاق میں تو نے چراغ رکھا تھا
نہ پوچھ میں نے اسے کس طرح ستارہ کیا
پرائی آگ کو گھر میں اٹھا کے لے آیا
یہ کام دل نے بغیر اجرت و خسارہ کیا
عجب ہے تو کہ تجھے ہجر بھی گراں گزرا
اور ایک ہم کہ ترا وصل بھی گوارہ کیا
ہمیشہ ہاتھ رہا ہے جمالؔ آنکھوں پر
کبھی خیال کبھی خواب پر گزارہ کیا
مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن