15 جون 1922 ۔ 23 اپریل 1991

عزیز حامد مدنی
عزیز حامد مدنی (۱۹۲۲ء تا ۱۹۹۱ء) اردو کی جدید غزل کے ان چند معتبر اور توانا لہجوں میں سے ہیں جنہوں نے غزل کے روایتی کینوس میں جدید فکری اور فلسفیانہ رنگ بھرے۔ وہ ایک نہایت زیرک نقاد، ماہرِ لسانیات اور بلند پایہ شاعر تھے
مزید

12 جون 1939 ۔ 18 مئی 1998

عبید اللہ علیم
عبید اللہ علیمؔ (۱۹۳۹ء تا ۱۹۹۸ء) جدید اردو غزل کے ان چند چنیدہ شعراء میں سے ہیں جنہوں نے غزل کے روایتی حسن کو برقرار رکھتے ہوئے اسے ایک نئی معاصر حسیت اور لہجے کا بانکپن عطا کیا۔ انہیں "خوابوں کا شاعر" بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ان کے کلام میں ایک خاص طرح کی رومانوی فضا اور جذباتی سچائی ملتی ہے۔
مزید

17 جون 1920 ۔ 24 مئی 2000

مجروح سلطان پوری
مجروح سلطان پوری (۱۹۱۹ء تا ۲۰۰۰ء) اردو غزل اور فلمی دنیا کا وہ درخشندہ ستارہ ہیں جنہوں نے ثابت کیا کہ ایک نظریاتی شاعر اپنی انقلابی فکر کے ساتھ بھی غزل کی نزاکت اور تغزل کو برقرار رکھ سکتا ہے۔ وہ ترقی پسند تحریک کے صفِ اول کے شعراء میں شامل تھے
مزید

18 جون 1939 ۔ 18 جون 2012

اختر امام رضوی
خطۂ پوٹھوہار کے خوبصورت شاعر اختر امام رضوی ستر اور اسی کی دہائی میں ادبی حلقوں میں بہت متحرک رہے، تقریباً تمام عمر ریڈیو پاکستان راوالپنڈی سے منسلک رہے اور اپنی خوبصورت آواز کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔ انہوں نے نہ صرف ریڈیو بلکہ ٹی وی پر بھی بہت نیا ٹیلیٹ متعارف کروایا
مزید

23 جون 1923 ۔ 15 جنوری 1997

افضل منہاس
نام وزیر احمد اور افضل تخلص تھا۔ضلع چکوال کے ایک گاؤں میں ۲۳؍جون ۱۹۲۳ء کو پیدا ہوئے۔ ساری زندگی راولپنڈی میں گزاری۔ ۱۵؍جنوری ۱۹۹۷ء کو ان کا انتقال ہوا۔
مزید

08 مارچ 1913 ۔ 24 جون 1989

قیوم نظر
قیوم نظر (۱۹۱۴ء تا ۱۹۸۹ء) اردو ادب میں جدید نظم کے ان معماروں میں سے ہیں جنہوں نے "حلقہ اربابِ ذوق" کے پلیٹ فارم سے اردو شاعری کو ایک نئی سمت اور نیا مزاج عطا کیا۔ وہ ایک ایسے تخلیق کار تھے جنہوں نے روایتی بندشوں سے آزاد ہو کر انسانی نفسیات اور مظاہرِ فطرت کو ایک انوکھے انداز میں بیان کیا۔
مزید

بند تہہ خانوں میں یہ دولتِ بیدار نہ رکھ

عرفان صدیقی


ذہن ہو تنگ تو پھر شوخی افکار نہ رکھ
بند تہہ خانوں میں یہ دولتِ بیدار نہ رکھ
زخم کھانا ہی جو ٹھہرا تو بدن تیرا ہے
خوف کا نام مگر لذتِ آزار نہ رکھ
ایک ہی چیز کو رہنا ہے سلامت، پیارے
اب جو سرشانوں پہ رکھا ہے تو دیوار نہ رکھ
خواہشیں توڑ نہ ڈالیں ترے سینے کا قفس
اتنے شہ زور پرندوں کو گرفتار نہ رکھ
اب میں چپ ہوں تو مجھے اپنی دلیلوں سے نہ کاٹ
میری ٹوٹی ہوئی تلوار پہ تلوار نہ رکھ
آج سے دل بھی ترے حال میں ہوتا ہے شریک
لے ، یہ حسرت بھی مری چشمِ گنہگار نہ رکھ
وقت پھر جانے کہاں اس سے ملا دے تجھ کو
اس قدر ترکِ ملاقات کا پندار نہ رکھ
فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع