08 فروری 1914 ۔ 18 اگست 1976

جاں نثار اختر
جاں نثار اختر: رومان و انقلاب کا سنگم اور نغمہ گو شاعر
مزید

12 اکتوبر 1938 ۔ 08 فروری 2016

ندا فاضلی
ندا فاضلی (۱۹۳۸ء تا ۲۰۱۶ء) جدید اردو اور ہندی ادب کا ایک ایسا معتبر نام ہیں جنہوں نے لفظوں کو ایک نیا سماجی اور انسانی تناظر عطا کیا۔ وہ ایک ایسے شاعر تھے جنہوں نے پیچیدہ فلسفوں کو روزمرہ کی سادہ زبان میں ڈھال کر عام آدمی کے دل کی دھڑکن بنا دیا۔
مزید

29 نومبر 1960 ۔ 05 فروری 1986

آنس معین
آنس معین 29 نومبر 1960 میں پیدا ہوئے۔ 1977 میں شعری دنیا میں قدم رکھا۔ 5 فروری 1986ء کو 26 سال کی عمر میں خودکشی کر کے اس دنیا کو خیر باد کہہ دیا۔
مزید

17 اکتوبر 1884 ۔ 04 فروری 1956

یگانہ چنگیزی
یگانہؔ ایک کلاسیکی غزل گو شاعر تھے۔ حالانکہ انہوں نے قطعات و رباعیات بھی کہی ہیں لیکن ان کی اصل پہچان ان کی غزلیں ہی ہیں۔ گو کہ وجہ شہرت یہی ہے کہ خود کو غالب سے بڑا شاعر سمجھتے تھے۔
مزید

15 اپریل 1951 ۔ 10 فروری 1998

جمال احسانی
جمال احسانی ما بعد جدید پاکستانی شاعروں میں سے ایک، اپنے انفرادی شعری تجربے کے لیے معروف ہوئے۔ جمال احسانی روزنامہ ’’حریت‘، روزنامہ’’سویرا‘‘ اور ’’اظہار‘‘ کراچی سے بھی وابستہ رہے جہاں انھوں نے معاون مدیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اپنا پرچہ ’’رازدار‘‘ بھی نکالتے رہے۔
مزید

02 فروری 1923 ۔ 14 اگست 2005

ضیا جالندھری
ضیا جالندھری: جدید اردو نظم کا معتبر نام اور حلقہ اربابِ ذوق کے ترجمان
مزید

فلس ماہی کو بتاتے ماہ روشن آپ ہیں

بہادر شاہ ظفر


جب کبھی دریا میں ہوتے سایہ افگن آپ ہیں
فلس ماہی کو بتاتے ماہ روشن آپ ہیں
سیتے ہیں سوزن سے چاک سینہ کیا اے چارہ ساز
خار غم سینے میں اپنے مثل سوزن آپ ہیں
پیار سے کر کے حمائل غیر کی گردن میں ہاتھ
مارتے تیغِ ستم سے مجھ کو گردن آپ ہیں
کھینچ کر آنکھوں میں اپنی سرمۂِ دنبالہ دار
کرتے پیدا سحر سے نرگس میں سوسن آپ ہیں
دیکھ کر صحرا میں مجھ کو پہلے گھبرایا تھا قیس
پھر جو پہچانا تو بولا حضرت من آپ ہیں
جی دھڑکتا ہے کہیں تار رگِ گل چبھ نہ جائے
سیج پر پھولوں کی کرتے قصد خفتن آپ ہیں
کیا مزا ہے تیغِ قاتل میں کہ اکثر صید عشق
آن کر اس پر رگڑتے اپنی گردن آپ ہیں
مجھ سے تم کیا پوچھتے ہو کیسے ہیں ہم کیا کہیں
جی ہی جانے ہے کہ جیسے مشفق من آپ ہیں
پر غرور و پر تکبر پر جفا و پر ستم
پر فریب و پر دغا پر مکر و پر فن آپ ہیں
ظلم پیشہ ظلم شیوہ ظلم ران و ظلم دوست
دشمن دل دشمنِ جاں دشمن تن آپ ہیں
یکہ تاز و نیزہ باز و عربدہ جو تند خو
تیغ زن دشنہ گزار و ناوک افگن آپ ہیں
تسمہ کش طراز و غارت گر تاراج ساز
کافر یغمائی و قزاق رہزن آپ ہیں
فتنہ جو بیداد گر سفاک و اظلم کینہ ور
گرم جنگ و گرم قتل و گرم کشتن آپ ہیں
بد مزاج و بد دماغ و بد شعار و بد سلوک
بد طریق و بد زباں بد عہد و بد ظن آپ ہیں
بے مروت بے وفا نا مہرباں نا آشنا
میرے قاتل میرے حاسد میرے دشمن آپ ہیں
اے ظفرؔ کیا پائے قاتل کے ہے بوسے کی ہوس
یوں جو بسمل ہو کے سرگرم طپیدن آپ ہیں