15 اگست 1932 ۔ 03 جون 1992

اختر حسین جعفری
اختر حسین جعفری (پیدائش: 15 اگست، 1932ء - وفات: 3 جون، 1992ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کی جدید نظم کے ممتاز شاعر تھے۔
مزید

03 جون 1857 ۔ 18 نومبر 1914

شبلی نعمانی
سرسید احمد خان کے ہمدم جناب علامہ شبلی نعمانی اردو کے بہترین شاعر، دانشور اور محقق تھے۔ 1892ء میں روم اور شام کا سفر کیا۔ 1898ء میں ملازمت ترک کرکے اعظم گڑھ آ گئے۔ 1913ء میں دار المصنفین کی بنیاد ڈالی۔ 1914ء میں انتقال ہوا۔
مزید

01 جون 1938 ۔ 15 مارچ 2015

ماجد صدیقی
ماجد صدیقی اردو اور پنجابی ادب کا وہ قد آور نام ہیں جن کی تخلیقی صلاحیتوں نے دونوں زبانوں کو مالا مال کیا ہے۔ ایک شاعر، مترجم، اور کمال کے نثر نگار کی حیثیت سے ان کا کام جدید ادب میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
مزید

12 جون 1939 ۔ 18 مئی 1998

عبید اللہ علیم
عبید اللہ علیمؔ (۱۹۳۹ء تا ۱۹۹۸ء) جدید اردو غزل کے ان چند چنیدہ شعراء میں سے ہیں جنہوں نے غزل کے روایتی حسن کو برقرار رکھتے ہوئے اسے ایک نئی معاصر حسیت اور لہجے کا بانکپن عطا کیا۔ انہیں "خوابوں کا شاعر" بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ان کے کلام میں ایک خاص طرح کی رومانوی فضا اور جذباتی سچائی ملتی ہے۔
مزید

25 مئی 1831 ۔ 17 مارچ 1905

داغ دہلوی
داغ دہلوی اردو غزل کے چند بڑے شعرا میں سے ایک ہیں۔ ان کے شاگردوں کا سلسلہ ہندوستان میں پھیلا ہوا تھا۔ اقبال، جگر مراد آبادی، سیماب اکبر آبادی اور احسن مارہروی جیسے معروف شاعر وں کو ان کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا۔ ان کے جانشین نوح ناروی بھی ایک معروف شاعر ہیں۔
مزید

25 مئی 1912 ۔ 03 نومبر 1949

میرا جی
میرا جی (۱۹۱۲ء تا ۱۹۴۹ء) اردو ادب کی ان چند پراسرار اور پیچیدہ شخصیتوں میں سے ہیں جن کے بغیر جدید نظم کی تاریخ ادھوری ہے۔ انہیں اردو کا "باؤلا" شاعر بھی کہا گیا اور جدیدیت کا امام بھی۔
مزید

تمام رات قیامت کا انتظار کیا

داغ دہلوی


غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا
تمام رات قیامت کا انتظار کیا
کسی طرح جو نہ اس بت نے اعتبار کیا
مری وفا نے مجھے خوب شرمسار کیا
ہنسا ہنسا کے شبِ وصل اشک بار کیا
تسلیاں مجھے دے دے کے بے قرار کیا
یہ کس نے جلوہ ہمارے سر مزار کیا
کہ دل سے شور اٹھا ہائے بے قرار کیا
سنا ہے تیغ کو قاتل نے آب دار کیا
اگر یہ سچ ہے تو بے شبہ ہم پہ وار کیا
نہ آئے راہ پہ وہ عجزِ بے شمار کیا
شبِ وصال بھی میں نے تو انتظار کیا
تجھے تو وعدۂِ دیدار ہم سے کرنا تھا
یہ کیا کیا کہ جہاں کو امیدوار کیا
یہ دل کو تاب کہاں ہے کہ ہو مآل اندیش
انہوں نے وعدہ کیا اس نے اعتبار کیا
کہاں کا صبر کہ دم پر ہے بن گئی ظالم
بہ تنگ آئے تو حالِ دل آشکار کیا
تڑپ پھر اے دلِ ناداں کہ غیر کہتے ہیں
اخیر کچھ نہ بنی صبر اختیار کیا
ملے جو یار کی شوخی سے اس کی بے چینی
تمام رات دلِ مضطرب کو پیار کیا
بھلا بھلا کے جتایا ہے ان کو رازِ نہاں
چھپا چھپا کے محبت کو آشکار کیا
نہ اس کے دل سے مٹایا کہ صاف ہو جاتا
صبا نے خاک پریشاں مرا غبار کیا
ہم ایسے محو نظارہ نہ تھے جو ہوش آتا
مگر تمہارے تغافل نے ہوشیار کیا
ہمارے سینے میں جو رہ گئی تھی آتش ہجر
شبِ وصال بھی اس کو نہ ہمکنار کیا
رقیب و شیوۂِ الفت خدا کی قدرت ہے
وہ اور عشق بھلا تم نے اعتبار کیا
زبانِ خار سے نکلی صدائے بسمِ اللہ
جنوں کو جب سرِ شوریدہ پر سوار کیا
تری نگہ کے تصور میں ہم نے اے قاتل
لگا لگا کے گلے سے چھری کو پیار کیا
غضب تھی کثرت محفل کہ میں نے دھوکا میں
ہزار بار رقیبوں کو ہمکنار کیا
ہوا ہے کوئی مگر اس کا چاہنے والا
کہ آسماں نے ترا شیوہ اختیار کیا
نہ پوچھ دل کی حقیقت مگر یہ کہتے ہیں
وہ بے قرار رہے جس نے بے قرار کیا
جب ان کو طرزِ ستم آ گئے تو ہوش آیا
برا ہو دل کا برے وقت ہشیار کیا
فسانۂِ شبِ غم ان کو اک کہانی تھی
کچھ اعتبار کیا کچھ نہ اعتبار کیا
اسیری دل آشفتہ رنگ لا کے رہی
تمام طرۂ طرار تار تار کیا
کچھ آ گئی داورِ محشر سے ہے امید مجھے
کچھ آپ نے مرے کہنے کا اعتبار کیا
کسی کے عشق نہاں میں یہ بد گمانی تھی
کہ ڈرتے ڈرتے خدا پر بھی آشکار کیا
فلک سے طور قیامت کے بن نہ پڑتے تھے
اخیر اب تجھے آشوب روزگار کیا
وہ بات کر جو کبھی آسماں سے ہو نہ سکے
ستم کیا تو بڑا تو نے افتخار کیا
بنے گا مہر قیامت بھی ایک خال سیاہ
جو چہرہ داغؔ سیہ رو نے آشکار کیا
مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن