06 اپریل 1890 ۔ 09 دسمبر 1960

جگر مراد آبادی
جگر مراد آبادی بیسویں صدی کے اردو کے مشہور شاعروں میں سے ایک ہیں۔ بلا کے مے نوش تھے مگر بڑھاپے میں تا ئب ہو گئے تھے
مزید

08 اگست 1960 ۔ 06 اپریل 2019

اکبر معصوم
اکبر معصوم اردو غزل کے ایک نمایاں شاعر تھے۔ سن دوہزار کے قریب اْن کاپہلا شعری مجموعہ ’’اور کہاں تک جانا ہے‘‘ شائع ہوا جسے اردو ادب میں خوب پذیرائی حاصل ہوئی۔
مزید

10 اپریل 1772 ۔ 16 اگست 1838

امام بخش ناسخ
شیخ امام بخش ناسخ کا شمار اردو کے اساتذہ میں ہوتا ہے۔ ناسخ جب فیض آباد سے لکھنؤ آئے تو ایک رئیس میر کاظم علی سے منسلک ہو گئے جنھوں نے ناسخ کو اپنا بیٹا بنا لیا۔ ان کے انتقال پر اچھی خاصی دولت ناسخ کے ہاتھ آئی۔ انھوں نے لکھنؤ میں بود و باش اختیار کر لی اور فراغت سے بسر کی۔
مزید

10 اپریل 1910 ۔ 10 مارچ 1981

عبدالحمید عدم
عبد الحمید عدم عبد الحمید عدم پاکستان کے نامور شاعر ہیں جو رومانی غزلوں کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔
مزید

10 اپریل 1935

اکبر حمیدی
اکبر حمیدی کی پچیس سے زائد کتابیں شائع ہوئیں۔ان میں آٹھ شعری مجموعے، انشائیوں کے پانچ مجموعے،خاکوں کے دو مجموعے،تنقیدی مضامین پر مشتمل دو مجموعے،ریڈیو کالموں کا ایک مجموعہ اور ان کی خود نوشت سوانح شامل ہیں۔
مزید

11 نومبر 1917 ۔ 13 اپریل 1997

فارغ بخاری
فارغ بخاری (۱۹۱۷ء تا ۱۹۹۷ء) پشتو اور اردو دونوں زبانوں کے ایک نہایت معتبر ادیب، شاعر اور محقق تھے۔ انہوں نے پشاور کی ادبی شناخت کو عالمی سطح پر روشناس کرانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ نہ صرف ایک ترقی پسند شاعر تھے بلکہ ایک بے باک صحافی اور کمال کے خاکہ نگار بھی تھے۔
مزید

میری نظر مجھی کو دیوانہ کہہ رہی ہے

شکیل بدایونی


آداب عاشقی سے بیگانہ کہہ رہی ہے
میری نظر مجھی کو دیوانہ کہہ رہی ہے
ہر آہ سر پیہم دل سے نکل نکل کر
دل کی تباہیوں کا افسانہ کہہ رہی ہے
اس درجہ ہے مسلط دیوانگی کا عالم
دیوانگی بھی مجھ کو دیوانہ کہہ رہی ہے
یہ انقلاب دوراں یہ عیش و غم کے عنواں
گویا زبان فطرت افسانہ کہہ رہی ہے
میری زباں انہیں سے ان کے ستم کا قصہ
یوں دب کے کہہ رہی ہے گویا نہ کہہ رہی ہے
اے برق فتنہ ساماں عنوان تازہ کوئی
یہ کیا سنا سنایا افسانہ کہہ رہی ہے
ہوں زندہ اک مرقع میں صورت آفریں کا
دنیا شکیلؔ میرا افسانہ کہہ رہی ہے
مفعول فاعِلاتن مفعول فاعِلاتن
مضارع مثمن اخرب