20 مارچ 1922 ۔ 12 جولائی 1993

سیف الدین سیف
سیف الدین سیفؔ (۱۹۲۲ء تا ۱۹۹۳ء) اردو غزل کے وہ نغمہ گر تھے جن کے لہجے کی مٹھاس اور گداز نے انہیں ہر دل عزیز بنا دیا۔ وہ ایک ایسے فنکار تھے جنہوں نے غزل کی کلاسیکی نفاست کو فلمی نغمہ نگاری کے وسیع کینوس پر اس مہارت سے بکھیرا کہ فلمی گیت بھی ادبِ عالیہ کا حصہ بن گئے۔
مزید

27 دسمبر 1809 ۔ 11 جولائی 1869

مصطفٰیٰ خان شیفتہ
نواب مصطفٰی خان شیفتہ جہانگیر آباد کے جاگیردار، اردو فارسی کے باذوق شاعر اور نقاد تھے۔
مزید

24 دسمبر 1919 ۔ 11 جولائی 2001

قتیل شفائی
قتیل شفائی (۱۹۱۹ء تا ۲۰۰۱ء) اردو غزل اور فلمی نغمہ نگاری کا وہ معتبر نام ہیں جنہوں نے سادگی اور سلاست کو فن کی بلندی عطا کی۔ وہ ایک ایسے عوامی شاعر تھے جن کے کلام کی خوشبو گلی کوچوں سے لے کر بڑے بڑے ایوانوں تک پھیلی ہوئی تھی۔ ان کی شاعری میں بہت نغمگی اور موسیقیت ہے
مزید

10 جولائی 1935 ۔ 11 مئی 1991

عالم تاب تشنہ
نام سید عالم تاب علی اور تخلص تشنہ تھا۔۲۰؍اپریل ۱۹۳۵ء کو میرٹھ میں پید اہوئے۔ میرٹھ سے ایم اے کیا۔ اپریل ۱۹۵۹ء میں پاکستان آگئے۔
مزید

24 جولائی 1920 ۔ 24 جولائی 1991

کیف بھوپالی
کیف بھوپالی بھوپال کی زرخیز ادبی زمین کا وہ پودا تھے جو مشاعروں کی دنیا میں ایک تناور درخت بن کر ابھرا۔ کیف بھوپالی محض ایک شاعر نہیں تھے بلکہ وہ ایک "محفل" تھے؛ ان کا اندازِ بیان اور سادہ مگر دل میں اتر جانے والے اشعار سامعین پر سحر طاری کر دیتے تھے۔
مزید

25 نومبر 1925 ۔ 07 جولائی 2008

خاطر غزنوی
خاطر غزنوی پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو اور ہندکو کے ممتاز شاعر، ادیب، نقاد، پشاور یونیورسٹی کے استاد اور اکادمی ادبیات پاکستان کے سابق ڈائریکٹر جنرل تھے۔ خاطر غزنوی جدید اردو اور ہندکو شاعری اور نثر میں ایک منفرد حیثیت کے حامل تھے۔
مزید

ہم کہ ہیں بزمِ گل و لالہ میں شبنم کی طرح

ضیا جالندھری


دیکھیں آئینے کے مانند سہیں غم کی طرح
ہم کہ ہیں بزمِ گل و لالہ میں شبنم کی طرح
وقت بے مہر ہے اس فرصت کم یاب میں تم
میری آنکھوں میں رہو خواب مجسم کی طرح
عرصۂ عمر میں کیا کیا نہ رتیں آئیں مگر
کوئی ٹھہری نہ یہاں درد کے موسم کی طرح
کس طرح اس سے کہوں زخم بھی ہیں اس کی عطا
ہاتھ جس کا مرے سینے پہ ہے مرہم کی طرح
میں نے چاہا تھا کہ اک جست میں پہنچوں لیکن
راہ میں سنگ تھے البتہ و تاہم کی طرح
تیرا احساں ہے کہ شاداب رہا کنج خیال
دل پر خوں کی طرح دیدۂ پر نم کی طرح
اس کی گفتار نے چھوڑا نہ کہیں کا ہم کو
ذائقہ شہد سا تھا اور اثر سم کی طرح
لوگ تسلیم سے تخریب تک آ پہنچے ہیں
ڈالنے نکلے ہیں اک اور ہی عالم کی طرح
سعی اظہار ضیاؔ کانچ کے ٹوٹے ہوئے لفظ
آرزوئیں ہیں کسی محفل برہم کی طرح
فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع