13 فروری 1911 ۔ 20 نومبر 1984

فیض احمد فیض
اردو کے مشہور شاعراور انجمن ترقی پسند مصنفین تحریک کے فعال رکن اور ایک ممتاز اِشتراکیت سٹالنسٹ فکر کے کمیونسٹ تھے۔
مزید

14 فروری 1920 ۔ 14 فروری 2015

کلیم عاجز
کلیم عاجز (۱۹۲۶ء تا ۲۰۱۵ء) اردو غزل کے ان آخری درویشوں میں سے تھے جنہوں نے جدید دور میں میر تقی میرؔ کے سوز و گداز اور سادگی کو دوبارہ زندہ کیا۔ وہ ایک ایسی منفرد شخصیت تھے جن کی شاعری میں دل کا لہو اور آنکھوں کے آنسو لفظ بن کر ڈھل گئے تھے
مزید

27 دسمبر 1797 ۔ 15 فروری 1869

مرزا غالب
مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ اردو ادب کا وہ آفتاب ہیں جس کی شعاعیں رہتی دنیا تک فکر و فن کو منور کرتی رہیں گی۔ غالبؔ صرف ایک شاعر نہیں تھے بلکہ ایک عظیم مفکر تھے جنہوں نے انسان کے داخلی وجود اور کائنات کے سربستہ رازوں کو اپنی غزلوں کا موضوع بنایا۔ان کی شاعری ہر عہد اور ہر طبقے کے لیے نیا مفہوم رکھتی ہے
مزید

15 فروری 1914 ۔ 22 مارچ 1982

احسان دانش
احسان دانش ایک دبستان علم و ادب کا نام ہے۔ وہ اردو ادب کے ایک درخشاں عہد کی نشانی ہیں۔ اردو ادب کی کوئی بھی صنف ہو، عالمی ادبیات کی کوئی بھی جہت ہو اور معیار ادب کا کوئی بھی اسلوب ہو ہر جگہ اس لافانی ادیب کے افکار کا پرتو دکھائی دیتی ہے۔
مزید

15 فروری 1935

بشیر بدر
سید محمد بشیر، بشیر بدر کے نام سے مشہور ہیں۔ ان کی پیدائش 15 فروری 1935 میں، بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر ایودھیا میں ہوئی۔
مزید

15 اپریل 1951 ۔ 10 فروری 1998

جمال احسانی
جمال احسانی ما بعد جدید پاکستانی شاعروں میں سے ایک، اپنے انفرادی شعری تجربے کے لیے معروف ہوئے۔ جمال احسانی روزنامہ ’’حریت‘، روزنامہ’’سویرا‘‘ اور ’’اظہار‘‘ کراچی سے بھی وابستہ رہے جہاں انھوں نے معاون مدیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اپنا پرچہ ’’رازدار‘‘ بھی نکالتے رہے۔
مزید

دلِ یار سے پھٹے تو کسی سے رفو نہ ہو

مرزا رفیع سودا


ناصح کو جیب سینے سے فرصت کبھو نہ ہو
دلِ یار سے پھٹے تو کسی سے رفو نہ ہو
اس دل کو دے کے لوں دو جہاں یہ کبھو نہ ہو
سودا تو ہووے تب یہ کہ جب اس میں تو نہ ہو
آئینۂ وجود عدم میں اگر ترا
وہ درمیاں نہ ہو تو کہیں ہم کو رو نہ ہو
جھگڑا تو حسن و عشق کا چکتا ہے پل کے بیچ
گر محکمے میں قاضی کے تو روبرو نہ ہو
قطرہ کی کھل گئی ہے گرہ ورنہ اے نسیم
شور دماغ مرغِ چمن گل کی بو نہ ہو
گزرے سو گزرے اہلِ زمیں اوپر اے فلک
آئندہ یاں تلک تو کوئی خوب رو نہ ہو
دل لے کے تجھ سے برق کے شعلے کو دیجیے
پر ہے یہ ڈر کہ اس کی بھی ایسی ہی خو نہ ہو
گل کی نہ تخم مرغِ چمن کر سکے تلاش
ہم خام فطرتوں سے تری جستجو نہ ہو
سوداؔ بدل کے قافیہ تو اس غزل کو کہہ
اے بے ادب تو درد سے بس دوبدو نہ ہو
مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف