16 دسمبر 1752 ۔ 19 مئی 1817

انشاء اللہ خان انشا
سید انشاء اللہ خان انشا کی ذہانت اور جدت پسندی انہیں اپنے ہم عصروں میں منفرد نہیں بلکہ تاریخ ادب میں بھی ممتاز مقام دلاتی ہے۔ غزل، ریختی، قصیدہ اور بے نقط مثنوی اور اردو میں بے نقط دیوان رانی کیتکی کی کہانی جس میں عربی فارسی کا ایک لفظ نہ آنے دیا۔
مزید

12 جون 1939 ۔ 18 مئی 1998

عبید اللہ علیم
عبید اللہ علیمؔ (۱۹۳۹ء تا ۱۹۹۸ء) جدید اردو غزل کے ان چند چنیدہ شعراء میں سے ہیں جنہوں نے غزل کے روایتی حسن کو برقرار رکھتے ہوئے اسے ایک نئی معاصر حسیت اور لہجے کا بانکپن عطا کیا۔ انہیں "خوابوں کا شاعر" بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ان کے کلام میں ایک خاص طرح کی رومانوی فضا اور جذباتی سچائی ملتی ہے۔
مزید

18 مئی 1932 ۔ 18 مئی 1988

اقبال ساجد
اقبال ساجد پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے دلچسپ لب و لہجے کے شاعر تھے۔اپنا کلام بیچ کر گزارہ کرنے کے حوالے سے ان کو کافی شہرت ملی، ان کے کلام کے خریداروں میں کافی مشہور نام شامل ہیں جو ان الزامات کی تردید کرتے پائے جاتے ہیں
مزید

01 جنوری 1916 ۔ 16 مئی 1999

سید ضمیر جعفری
ضمیر جعفری اردو کے ممتاز مزاح نگار اور شاعر ہیں۔ انکا پورا نام سید ضمیر حسین جعفری تھا۔ 1 جنوری 1916ء کو جہلم کے ساتھ ایک گاؤں چک عبدالخالق میں پیدا ہوئے۔ تعلیم جہلم، اٹک اور لاہور سے حاصل کی۔
مزید

17 جون 1920 ۔ 24 مئی 2000

مجروح سلطان پوری
مجروح سلطان پوری (۱۹۱۹ء تا ۲۰۰۰ء) اردو غزل اور فلمی دنیا کا وہ درخشندہ ستارہ ہیں جنہوں نے ثابت کیا کہ ایک نظریاتی شاعر اپنی انقلابی فکر کے ساتھ بھی غزل کی نزاکت اور تغزل کو برقرار رکھ سکتا ہے۔ وہ ترقی پسند تحریک کے صفِ اول کے شعراء میں شامل تھے
مزید

25 مئی 1831 ۔ 17 مارچ 1905

داغ دہلوی
داغ دہلوی اردو غزل کے چند بڑے شعرا میں سے ایک ہیں۔ ان کے شاگردوں کا سلسلہ ہندوستان میں پھیلا ہوا تھا۔ اقبال، جگر مراد آبادی، سیماب اکبر آبادی اور احسن مارہروی جیسے معروف شاعر وں کو ان کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا۔ ان کے جانشین نوح ناروی بھی ایک معروف شاعر ہیں۔
مزید

پیتے ہیں نوجوان شرابِ کہن ہنوز

حیدر علی آتش


جوش و خروش پر ہے بہارِ چمن ہنوز
پیتے ہیں نوجوان شرابِ کہن ہنوز
پاتا نہیں میں یار کو میل سخن ہنوز
معدوم ہے کمر کی طرح سے دہن ہنوز
برسوں سے رو رہا ہوں شب و روز متصل
ہنستے ہیں مدتوں سے مرے زخم تن ہنوز
رخسارِ یار پر نہیں آغاز خط ابھی
دیکھا نہیں ان آنکھوں نے سورج گہن ہنوز
انجام کار کا نہیں آتا خیال کچھ
غربت میں بھولے بیٹھے ہیں یار وطن ہنوز
عالم ان ابروؤں کی کجی کا جو ہے سو ہے
بل کھا رہی ہے زلفِ شکن در شکن ہنوز
خلعت کی کیا امید رکھیں آسماں سے ہم
اس نے تو داب رکھا ہے اپنا کفن ہنوز
عالم حجاب یار کا تا حال ہے وہی
خلوت نشیں ہے روشنی انجمن ہنوز
اپنے صفائے سینہ کا حیران کار ہے
دیکھا نہیں ہے آئنے نے وہ بدن ہنوز
ہر چند باغ دہر میں مدت سے ہوں مقیم
آتشؔ نظر پڑا نہ وہ سیب ذقن ہنوز