04 ستمبر 1944 ۔ 20 فروری 1999

غلام محمد قاصر
غلام محمد قاصرؔ (۱۹۴۴ء تا ۱۹۹۹ء) جدید اردو غزل کے ان چند معتبر اور منفرد شعراء میں سے ہیں جنہوں نے اپنی شاعری سے روایت اور جدت کے درمیان ایک ایسا پل تعمیر کیا جس پر چل کر نئی نسل کے بہت سے شعراء نے اپنا راستہ تلاش کیا۔ ان کا لہجہ نہایت شائستہ، دھیما اور فکر انگیز تھا
مزید

05 دسمبر 1898 ۔ 22 فروری 1982

جوش ملیح آبادی
جوش ملیح آبادی (پیدائش: 5 دسمبر 1898ء - وفات: 22 فروری 1983ء) پورا نام شبیر حسین خاں جوش ملیح آبادی اردو ادب کے نامور اور قادر الکلام شاعر تھے۔ آپ آفریدی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ شاعر انقلاب کے لقب سے بھی جانے جاتے ہیں۔
مزید

27 دسمبر 1797 ۔ 15 فروری 1869

مرزا غالب
مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ اردو ادب کا وہ آفتاب ہیں جس کی شعاعیں رہتی دنیا تک فکر و فن کو منور کرتی رہیں گی۔ غالبؔ صرف ایک شاعر نہیں تھے بلکہ ایک عظیم مفکر تھے جنہوں نے انسان کے داخلی وجود اور کائنات کے سربستہ رازوں کو اپنی غزلوں کا موضوع بنایا۔ان کی شاعری ہر عہد اور ہر طبقے کے لیے نیا مفہوم رکھتی ہے
مزید

15 فروری 1914 ۔ 22 مارچ 1982

احسان دانش
احسان دانش ایک دبستان علم و ادب کا نام ہے۔ وہ اردو ادب کے ایک درخشاں عہد کی نشانی ہیں۔ اردو ادب کی کوئی بھی صنف ہو، عالمی ادبیات کی کوئی بھی جہت ہو اور معیار ادب کا کوئی بھی اسلوب ہو ہر جگہ اس لافانی ادیب کے افکار کا پرتو دکھائی دیتی ہے۔
مزید

15 فروری 1935

بشیر بدر
سید محمد بشیر، بشیر بدر کے نام سے مشہور ہیں۔ ان کی پیدائش 15 فروری 1935 میں، بھارت کی ریاست اتر پردیش کے شہر ایودھیا میں ہوئی۔
مزید

14 فروری 1920 ۔ 14 فروری 2015

کلیم عاجز
کلیم عاجز (۱۹۲۶ء تا ۲۰۱۵ء) اردو غزل کے ان آخری درویشوں میں سے تھے جنہوں نے جدید دور میں میر تقی میرؔ کے سوز و گداز اور سادگی کو دوبارہ زندہ کیا۔ وہ ایک ایسی منفرد شخصیت تھے جن کی شاعری میں دل کا لہو اور آنکھوں کے آنسو لفظ بن کر ڈھل گئے تھے
مزید

آئینہ دیکھ اور ذرا مسکرا کے دیکھ

فانی بدایونی


دل کی طرف حجاب تکلف اٹھا کے دیکھ
آئینہ دیکھ اور ذرا مسکرا کے دیکھ
اس دور میں یہ طرز جفا آزما کے دیکھ
دل کے بجائے دل کے سکوں کو مٹا کے دیکھ
تسلیم کی نظر سے کرشمے رضا کے دیکھ
بیگانگی دوست کو اپنا بنا کے دیکھ
اس شورش حیات کو حد سے بڑھا کے دیکھ
یہ فتنہ اور حشر سے پہلے اٹھا کے دیکھ
یوں دیکھتا ہے تیرگی آب و گل میں کیا
شعلوں سے کھیل دل کو جلا اور جلا کے دیکھ
ہر زندگی کا نام نہ رکھ دل کی زندگی
ایمان زندگی پہ نہ لا آزما کے دیکھ
تیری تجلیوں سے کسی طرح کم نہیں
دل کی تجلیوں کو کبھی دل میں آ کے دیکھ
اب کے ادائے خاص سے کر امتحان دل
جو برقِ طور پر نہ گری ہو گرا کے دیکھ
ہاں اہلِ دل کے حال سے غفلت محال ہے
اچھا یقیں نہیں تو مجھی کو بھلا کے دیکھ
دنیا کو دیکھنا تو میسر نہیں تجھے
ذرے کو دیکھنا ہے تو دنیا بنا کے دیکھ
فانیؔ سفینہ اب بھی نہ ڈوبے تو کیا کرے
طوفان کو نہ دیکھ ستم نا خدا کے دیکھ
مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف