22 اگست 1924 ۔ 12 مارچ 2015

ادا جعفری
ادا جعفری ۱۹۲۴ میں پیدا ہوئیں، ان کے شعری مجموعہ شہر درد کو 1968ء میں آدم جی ادبی انعام ملا۔ شاعری کے بہت سے مجموعہ جات کے علاوہ ’’جو رہی سو بے خبری رہی‘‘ کے نام سے اپنی خود نوشت سوانح عمری بھی 1995ء میں لکھی۔ 1991ء میں حکومت پاکستان نے ادبی خدمات کے اعتراف میں تمغۂ امتیاز سے نوازا۔
مزید

21 اگست 1919 ۔ 12 دسمبر 1994

ظہیر کاشمیری
ظہیر کاشمیری: انقلاب اور رومان کا سنگم
مزید

12 جنوری 1931 ۔ 25 اگست 2008

احمد فراز
خواص اور عوام دونوں میں مقبول، وہ برصغیر کے ان چند شاعروں میں سے ایک تھے جن کی شاعری کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ گایا بھی گیا۔ احمد فراز اپنے عہد کے ان شاعروں میں سے تھے جو ہر بڑے مشاعرے کی مجبوری تھے اوران کے چاہنے والے ان کے اشعار پر بے تحاشہ داد دیا کرتے تھے
مزید

08 فروری 1914 ۔ 18 اگست 1976

جاں نثار اختر
جاں نثار اختر: رومان و انقلاب کا سنگم اور نغمہ گو شاعر
مزید

31 جنوری 1933 ۔ 18 اگست 1985

شاذ تمکنت
شاذ تمکنت (۱۹۳۳ء تا ۱۹۸۵ء) جدید اردو غزل کے ان چند معتبر شعراء میں سے ہیں جنہوں نے حیدرآباد دکن کی کلاسیکی ادبی روایت کو جدید فکری جہتوں کے ساتھ زندہ رکھا۔
مزید

13 ستمبر 1879 ۔ 27 اگست 1961

فانی بدایونی
فانی بدایونی (۱۸۷۹ء تا ۱۹۴۱ء) اردو غزل کے وہ منفرد شاعر ہیں جنہیں "یاسیت کا امام" کہا جاتا ہے۔ ان کی شاعری غم اور موت کے فلسفے کے گرد گھومتی ہے، مگر اس غم میں ایک ایسی فنی بلندی اور وقار ہے کہ وہ قاری کو مایوس کرنے کے بجائے انسانی وجود کی حقیقتوں پر غور کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
مزید

بس یہی تجھ سے یار ہونا تھا

مومن خان مومن


غصہ بیگانہ وار ہونا تھا
بس یہی تجھ سے یار ہونا تھا
کیا شبِ انتظار ہونا تھا
ناحق امیدوار ہونا تھا
کیوں نہ ہوتے عزیز غیر تمہیں
میری قسمت میں خوار ہونا تھا
مجھ سے جنت میں وہ صنم نہ ملا
حشر اور ایک بار ہونا تھا
گر نہ تھی اے دل اس کے رنج کی تعب
کیوں شکایت گزار ہونا تھا
خاک ہوتا نہ میں تو کیا کرتا
اس کے در کا غبار ہونا تھا
ہرزہ گردی سے ہم ذلیل ہوئے
چرخ کا اعتبار ہونا تھا
مرگ شام وصال حرماں ہے
صبح دم جاں نثار ہونا تھا
اور سے ہمکنار ہے دشمن
آج تو ہمکنار ہونا تھا
شکوۂِ دہر پر کہا تم کو
آفتِ روزگار ہونا تھا
چشم بے اختیار جاناں میں
کیا مرا اختیار ہونا تھا
صبر کر صبر ہو چکا جو کچھ
اے دل بے قرار ہونا تھا
کوئے دشمن میں جا پکڑتا کیوں
کیا مجھے شرمسار ہونا تھا
وہ نمک پاش بھی نہیں ہوتے
یوں ہی دل کو فگار ہونا تھا
خاک میں حیف یہ شراب ملے
محتسب بادہ خوار ہونا تھا
نہ گیا تیر نالہ سوئے رقیب
مرغ عرشی شکار ہونا تھا
رات دن بادہ و صنم مومنؔ
کچھ تو پرہیزگار ہونا تھا