08 مارچ 1913 ۔ 24 جون 1989

قیوم نظر
قیوم نظر (۱۹۱۴ء تا ۱۹۸۹ء) اردو ادب میں جدید نظم کے ان معماروں میں سے ہیں جنہوں نے "حلقہ اربابِ ذوق" کے پلیٹ فارم سے اردو شاعری کو ایک نئی سمت اور نیا مزاج عطا کیا۔ وہ ایک ایسے تخلیق کار تھے جنہوں نے روایتی بندشوں سے آزاد ہو کر انسانی نفسیات اور مظاہرِ فطرت کو ایک انوکھے انداز میں بیان کیا۔
مزید

29 جون 1914 ۔ 11 مئی 1974

مجید امجد
مجید امجدؔ اردو نظم کا وہ ہمالہ ہیں جس کی بلندی کا اندازہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہو رہا ہے۔ وہ ایک ایسے منفرد تخلیق کار تھے جنہوں نے کائنات کے ذرے ذرے میں زندگی کا سراغ لگایا اور اردو نظم کو وہ وسعت عطا کی جو اس سے پہلے خواب لگتی تھی۔
مزید

23 جون 1923 ۔ 15 جنوری 1997

افضل منہاس
نام وزیر احمد اور افضل تخلص تھا۔ضلع چکوال کے ایک گاؤں میں ۲۳؍جون ۱۹۲۳ء کو پیدا ہوئے۔ ساری زندگی راولپنڈی میں گزاری۔ ۱۵؍جنوری ۱۹۹۷ء کو ان کا انتقال ہوا۔
مزید

01 جولائی 1887 ۔ 06 جنوری 1966

تلوک چند محروم
تلوک چند محرومؔ (۱۸۸۷ء تا ۱۹۶۶ء) اردو کے ان جلیل القدر شعراء میں سے ہیں جنہوں نے اپنی شاعری کو فطرت کی عکاسی، حبِ وطنی اور انسانی ہمدردی کے لیے وقف کیا۔وہ ایک بلند پایہ شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نہایت شفیق استاد بھی تھے، اور ان کا کلام اپنی سادگی اور اثر انگیزی کی بنا پر ہر خاص و عام میں مقبول رہا
مزید

01 جولائی 1921 ۔ 19 نومبر 1973

سلام مچھلی شہری
سلام مچھلی شہری (۱۹۲۱ء تا ۱۹۷۳ء) اردو ادب کے وہ نامور اور مقبول شاعر ہیں جنہوں نے نظم، غزل اور گیت نگاری میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی۔ ان کے ہاں رومانیت اور ترقی پسند فکر کا ایک نہایت متوازن امتزاج ملتا ہے، جو انہیں اپنے ہم عصروں میں نمایاں کرتا ہے۔
مزید

01 جولائی 1930 ۔ 04 دسمبر 2013

محبوب خزاں
محبوب خزاں (۱۹۲۹ء تا ۲۰۱۳ء) اردو غزل کے ان شعراء میں سے ہیں جنہوں نے خاموشی اور درویشی کے ساتھ ادب کی وہ خدمت کی جو بڑے بڑے شور و غوغا کرنے والے نہ کر سکے۔ وہ جدید غزل کے ایک ایسے معتبر اور ثقہ شاعر تھے جن کے ہاں لفظوں کا استعمال ایک خاص سلیقے اور احتیاط کا مرہونِ منت ہوتا تھا۔
مزید

تو جہاں آخری پردا ہو گا

باقی صدیقی


وہ مقام دل وہ جاں کیا ہو گا
تو جہاں آخری پردا ہو گا
منزلیں راستہ بن جاتی ہیں
ڈھونڈنے والوں نے دیکھا ہو گا
سائے میں بیٹھے ہوئے سوچتے ہیں
کون اس دھوپ میں چلتا ہو گا
ابھی دل پر ہیں جہاں کی نظریں
آئنہ اور ابھی دھندلا ہو گا
راز سر بستہ ہے محفل تیری
جو سمجحھ لے گا وہ تنہا ہو گا
اس طرح قطع تعلق نہ کرو
اس طرح اور بھی چرچا ہو گا
بعد مدت کے چلے دیوانے
کیا ترے شہر کا نقشہ ہو گا
سب کا منہ تکتے ہیں یوں ہم جیسے
کوئی تو بات سمجھتا ہو گا
پھول یہ سوچ کے کھل اٹھتے ہیں
کوئی تو دیدہ بینا ہو گا
خود سے ہم دور نکل آئے ہیں
تیرے ملنے سے بھی اب کیا ہو گا
ہم ترا راستہ تکتے ہوں گے
اور تو سامنے بیٹھا ہو گا
تیری ہر بات پہ چپ رہتے ہیں
ہم سا پتھر بھی کیا ہو گا
خود کو یاد آنے لگے ہم باقیؔ
پھر کسی بات پہ جھگڑا ہو گا
فاعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مسدس مخبون محذوف مسکن