17 اکتوبر 1884 ۔ 04 فروری 1956

یگانہ چنگیزی
یگانہؔ ایک کلاسیکی غزل گو شاعر تھے۔ حالانکہ انہوں نے قطعات و رباعیات بھی کہی ہیں لیکن ان کی اصل پہچان ان کی غزلیں ہی ہیں۔ گو کہ وجہ شہرت یہی ہے کہ خود کو غالب سے بڑا شاعر سمجھتے تھے۔
مزید

02 فروری 1923 ۔ 14 اگست 2005

ضیا جالندھری
ضیا جالندھری: جدید اردو نظم کا معتبر نام اور حلقہ اربابِ ذوق کے ترجمان
مزید

29 نومبر 1960 ۔ 05 فروری 1986

آنس معین
آنس معین 29 نومبر 1960 میں پیدا ہوئے۔ 1977 میں شعری دنیا میں قدم رکھا۔ 5 فروری 1986ء کو 26 سال کی عمر میں خودکشی کر کے اس دنیا کو خیر باد کہہ دیا۔
مزید

31 جنوری 1933 ۔ 18 اگست 1985

شاذ تمکنت
شاذ تمکنت (۱۹۳۳ء تا ۱۹۸۵ء) جدید اردو غزل کے ان چند معتبر شعراء میں سے ہیں جنہوں نے حیدرآباد دکن کی کلاسیکی ادبی روایت کو جدید فکری جہتوں کے ساتھ زندہ رکھا۔
مزید

08 فروری 1914 ۔ 18 اگست 1976

جاں نثار اختر
جاں نثار اختر: رومان و انقلاب کا سنگم اور نغمہ گو شاعر
مزید

12 اکتوبر 1938 ۔ 08 فروری 2016

ندا فاضلی
ندا فاضلی (۱۹۳۸ء تا ۲۰۱۶ء) جدید اردو اور ہندی ادب کا ایک ایسا معتبر نام ہیں جنہوں نے لفظوں کو ایک نیا سماجی اور انسانی تناظر عطا کیا۔ وہ ایک ایسے شاعر تھے جنہوں نے پیچیدہ فلسفوں کو روزمرہ کی سادہ زبان میں ڈھال کر عام آدمی کے دل کی دھڑکن بنا دیا۔
مزید

غمِ عشق تو اپنا رفیق رہا کوئی اور بلا سے رہا نہ رہا

بہادر شاہ ظفر


نہیں عشق میں اس کا تو رنج ہمیں کہ قرار و شکیب ذرا نہ رہا
غمِ عشق تو اپنا رفیق رہا کوئی اور بلا سے رہا نہ رہا
دیا اپنی خودی کو جو ہم نے اٹھا وہ جو پردہ سا بیچ میں تھا نہ رہا
رہے پردے میں اب نہ وہ پردہ نشیں کوئی دوسرا اس کے سوا نہ رہا
نہ تھی حال کی جب ہمیں خبر رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر
پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا
ترے رخ کے خیال میں کون سے دن اٹھے مجھ پہ نہ فتنۂِ روزِ جزا
تری زلف کے دھیان میں کون سی شب مرے سر پہ ہجوم بلا نہ رہا
ہمیں ساغر بادہ کے دینے میں اب کرے دیر جو ساقی تو ہائے غضب
کہ یہ عہد نشاط یہ دور طرب نہ رہے گا جہاں میں سدا نہ رہا
کئی روز میں آج وہ مہرِ لقا ہوا میرے جو سامنے جلوہ نما
مجھے صبر و قرار ذرا نہ رہا اسے پاس حجاب و حیا نہ رہا
ترے خنجر و تیغ کی آبِ رواں ہوئی جب کہ سبیل ستم زدگاں
گئے کتنے ہی قافلے خشک زباں کوئی تشنۂِ آب بقا نہ رہا
مجھے صاف بتائے نگار اگر تو یہ پوچھوں میں رو رو کے خونِ جگر
ملے پاؤں سے کس کے ہیں دیدۂ تر کف پا پہ جو رنگِ حنا نہ رہا
اسے چاہا تھا میں نے کہ روک رکھوں مری جان بھی جائے تو جانے نہ دوں
کیے لاکھ فریب کروڑ فسوں نہ رہا نہ رہا نہ رہا نہ رہا
لگے یوں تو ہزاروں ہی تیرِ ستم کہ تڑپتے رہے پڑے خاک پہ ہم
ولے ناز و کرشمہ کی تیغِ دو دم لگی ایسی کہ تسمہ لگا نہ رہا
ظفرؔ آدمی اس کو نہ جانیے گا وہ ہو کیسا ہی صاحب فہم و ذکا
جسے عیش میں یادِ خدا نہ رہی جسے طیش میں خوفِ خدا نہ رہا