04 ستمبر 1944 ۔ 20 فروری 1999

غلام محمد قاصر
غلام محمد قاصرؔ (۱۹۴۴ء تا ۱۹۹۹ء) جدید اردو غزل کے ان چند معتبر اور منفرد شعراء میں سے ہیں جنہوں نے اپنی شاعری سے روایت اور جدت کے درمیان ایک ایسا پل تعمیر کیا جس پر چل کر نئی نسل کے بہت سے شعراء نے اپنا راستہ تلاش کیا۔ ان کا لہجہ نہایت شائستہ، دھیما اور فکر انگیز تھا
مزید

12 نومبر 1923 ۔ 02 ستمبر 2002

احمد راہی
احمد راہی معروف پنجابی شاعر، فلمی کہانی نویس اور نغمہ نگار تھے۔ انہوں نے زیادہ تر پنجابی فلموں میں اپنی خدمات دیں، بطور کہانی نویس ان کی یادگار فلموں میں مرزا جٹ، ہیر رانجھا، ناجو، گُڈو، اُچّا شملہ جٹ دا مشہور ہے کئی فلموں کے گیت لکھے۔
مزید

04 مئی 1905 ۔ 09 ستمبر 1948

اختر شیرانی
اختر شیرانی نے صرف 43 برس کی عمر پائی اور اس عمر میں انہوں نے نظم و نثر میں اتنا کچھ لکھا کہ بہت کم لوگ اپنی طویل عمر میں اتنا لکھ پاتے ہیں ۔ اردو تنقید پر اختر شیرانی کا جو قرض ہے وہ اسے ابھی تک پوری طرح ادا نہیں کر پائی ہے۔
مزید

09 نومبر 1949 ۔ 09 ستمبر 1996

ثروت حسین
ثروت حسین (۱۹۴۹ء تا ۱۹۹۶ء) جدید اردو غزل کے ان چند شعراء میں شامل ہیں جنہیں "شاعروں کا شاعر" کہا جاتا ہے۔ ان کی شاعری میں جو حیرت، معصومیت اور جمالیاتی وفور ملتا ہے، وہ ان کے ہم عصروں میں مفقود ہے۔ وہ ایک ایسے تخلیق کار تھے جنہوں نے خوابوں اور پرندوں کی زبان میں دکھ کی نئی صورت گری کی۔
مزید

16 نومبر 1846 ۔ 09 ستمبر 1921

سیماب اکبر آبادی
سیماب اکبر آبادی اردو کے نامور اور قادرالکلام شاعر تھے۔ ان کے تقریباً ڈھائی ہزار شاگرد تھے سیماب اکبر آبادی کو ’’تاج الشعرا‘‘، ’’ناخدائے سخن‘‘ بھی کہا گیا۔ داغ دہلوی کے داماد سائل دہلوی سیماب کو جانشینِ داغ کہا کرتے تھے۔
مزید

13 ستمبر 1879 ۔ 27 اگست 1961

فانی بدایونی
فانی بدایونی (۱۸۷۹ء تا ۱۹۴۱ء) اردو غزل کے وہ منفرد شاعر ہیں جنہیں "یاسیت کا امام" کہا جاتا ہے۔ ان کی شاعری غم اور موت کے فلسفے کے گرد گھومتی ہے، مگر اس غم میں ایک ایسی فنی بلندی اور وقار ہے کہ وہ قاری کو مایوس کرنے کے بجائے انسانی وجود کی حقیقتوں پر غور کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
مزید

چلے گی کارواں کے ساتھ گردِ کارواں کب تک

تلوک چند محروم


تن خاکی رہے گا ہمرہ انوار جاں کب تک
چلے گی کارواں کے ساتھ گردِ کارواں کب تک
دل وارستہ کی وارستگی کا امتحاں کب تک
جفائے دشمناں کب تک وفائے دوستاں کب تک
ادھر بھی ایک جھونکا اے ہوائے فصل آزادی
رہوں زنجیری اندیشۂ سود و زیاں کب تک
نسیم فصلِ گل آئی نہ ان بارہ مہینوں میں
رہے گا باغ میں اے باغباں دورِ خزاں کب تک
نہ کیوں ہم دیدۂ خوں بار سے گل کاریاں کر لیں
رہیں آخر بہ امید بہارِ گل فشاں کب تک
وطن کی یاد مٹتے مٹتے مٹ جاتی ہے غربت میں
قفس میں تابش داغِ فراق آشیاں کب تک
اجل آ کر بلند و پست کو ہموار کر دے گی
کوئی بالا نشیں کب تک کوئی پستی نشاں کب تک
سبک ہے یا گراں اے زندگی آخر ہے تو اپنی
تجھے اپنائیں گے تجھ سے رہیں گے سر گراں کب تک
اجاڑی جائے گی کب تک زمیں از بہر آبادی
لڑی جائیں گی جنگیں از پئے امن و اماں کب تک
صلہ حسن عمل کا خونِ دل ہے اس زمانے میں
مرے کام آئے گی رنگینی حسنِ بیاں کب تک
وہی اک حسرت ناکام ہے اور اس کا رونا ہے
کیے جاؤ گے محرومؔ اس کو زیب داستاں کب تک
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
ہزج مثمن سالم