20 ستمبر 1905 ۔ 08 جنوری 1972

باقی صدیقی
باقی صدیقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو اور پنجابی کے شاعر، ادیب، ڈراما نگار، فیچر رائٹر اور صحافی تھے۔ باقی صدیقی نے بے شمار پوٹھوہاری گیت اور پنجابی فیچر لکھے۔ ان کی پنجابی نظموں میں نہ صرف پوٹھوہاری الفاظ بلکہ پورے پوٹھوہاری معاشرہ کی جھلک ملتی ہے۔
مزید

15 اکتوبر 1933 ۔ 22 ستمبر 2010

محسن احسان
محسن احسان (۱۹۳۲ء تا ۲۰۱۰ء) خیبر پختونخوا کی مٹی سے اٹھنے والے اردو ادب کے وہ معتبر شاعر اور مترجم تھے جنہوں نے پشاور کے ادبی منظر نامے کو ایک عالمی پہچان عطا کی۔ وہ ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت تھے جن کے کلام میں سرحدوں کے آخری سرے کی خوشبو اور جدید عہد کی فکری گہرائی یکجا ملتی ہے۔
مزید

18 ستمبر 1879 ۔ 10 اکتوبر 1962

نوحؔ ناروی (۱۸۷۹ء تا ۱۹۶۲ء) اردو غزل کی اس کلاسیکی روایت کے امین تھے جس نے داغؔ دہلوی کے رنگِ سخن کو بیسویں صدی میں زندہ رکھا۔ وہ داغؔ کے ارشد تلامذہ میں سے تھے اور انہیں "جانشینِ داغ" کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔
مزید

17 ستمبر 1857 ۔ 10 نومبر 1912

بیخود بدایونی
اردو غزل کی تاریخ میں بیخود بدایونیؔ کا نام ایک ایسے قادر الکلام شاعر کے طور پر ابھرا جس نے داغ دہلوی کے رنگِ تغزل کو اس کی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ آگے بڑھایا۔ وہ زبان کی صفائی، محاورے کے برجستہ استعمال اور بیان کی شگفتگی میں اپنے استاد کے سچے جانشین معلوم ہوتے ہیں۔
مزید

13 ستمبر 1879 ۔ 27 اگست 1961

فانی بدایونی
فانی بدایونی (۱۸۷۹ء تا ۱۹۴۱ء) اردو غزل کے وہ منفرد شاعر ہیں جنہیں "یاسیت کا امام" کہا جاتا ہے۔ ان کی شاعری غم اور موت کے فلسفے کے گرد گھومتی ہے، مگر اس غم میں ایک ایسی فنی بلندی اور وقار ہے کہ وہ قاری کو مایوس کرنے کے بجائے انسانی وجود کی حقیقتوں پر غور کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
مزید

01 اکتوبر 1910 ۔ 01 اکتوبر 1975

ن م راشد
ن م راشد حقیقی معنوں میں ایک رحجان ساز شاعر ہیں۔ لیکن ہم پورے وثوق کے ساتھ ن م راشدؔ کو ایسا شاعر قرار د ے سکتے ہیں کیوں کہ انھوں نے نہ صرف اردو میں آزاد نظم کو متعارف کروایا بلکہ اردو شاعری کو جدت بخشی اور نیا مِزاج عطا کیا۔
مزید

دیکھا تو وہ تصویر ہر اک دل سے لگی تھی

احمد فراز


جس سے یہ طبیعت بڑی مشکل سے لگی تھی
دیکھا تو وہ تصویر ہر اک دل سے لگی تھی
تنہائی میں روتے ہیں کہ یوں دل کو سکوں ہو
یہ چوٹ کسی صاحب محفل سے لگی تھی
اے دل ترے آشوب نے پھر حشر جگایا
بے درد ابھی آنکھ بھی مشکل سے لگی تھی
خلقت کا عجب حال تھا اس کوئے ستم میں
سائے کی طرح دامن قاتل سے لگی تھی
اترا بھی تو کب درد کا چڑھتا ہوا دریا
جب کشتی جاں موت کے ساحل سے لگی تھی
مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن
ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف