کھلے جو ایک دریچے میں آج حسن کے پھول

فیض احمد فیض


کھلے جو ایک دریچے میں آج حسن کے پھول
تو صبح جھوم کے گلزار ہو گئی یکسر
جہاں کہیں‌ بھی گرا نور ان نگاہوں سے
ہر ایک چیز طرحدار ہو گئی یکسر
 
مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن