سوچ کی کہنہ سرائے میں روشن مشعل بام ہوئی

عرفان صدیقی


شہر نے امید کی چادر اوڑھی دور اذان شام ہوئی
سوچ کی کہنہ سرائے میں روشن مشعل بام ہوئی