فانی بدایونی: یاسیت کا امام اور غمِ انسانی کا عظیم نغمہ گر
اردو شاعری کی تاریخ میں فانی بدایونی (اصل نام: شوکت علی خان) ایک ایسی شخصیت ہیں جن کے کلام نے غم کو ایک نئی جہت اور فلسفیانہ گہرائی عطا کی۔ وہ ایک صاحبِ طرز شاعر تھے جنہوں نے غزل کے روایتی موضوعات کو انسانی نفسیات اور وجودی کرب سے جوڑ دیا۔ ان کی شاعری میں موت اور زندگی کی کشمکش کا جو بیان ملتا ہے، وہ اردو ادب میں اپنی مثال آپ ہے۔
پیدائش اور تعلیمی پس منظر
فانی بدایونی 1879ء میں اتر پردیش کے ضلع بدایوں میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد شجاعت علی خان پولیس انسپکٹر تھے اور ایک معزز گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ فانی نے اپنی ابتدائی تعلیم بدایوں میں حاصل کی اور بعد ازاں بریلی سے بی اے کیا۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایل ایل بی (وکالت) کی ڈگری بھی حاصل کی، مگر ان کی فطرت میں موجود شاعرانہ اضطراب نے انہیں کسی ایک جگہ ٹکنے نہ دیا۔
عملی زندگی اور جدوجہد
فانی کی عملی زندگی مسلسل ناکامیوں اور پریشانیوں کا مجموعہ رہی۔ انہوں نے کچھ عرصہ وکالت کی، مگر اس پیشے سے ان کا جی نہ لگا۔ وہ مختلف شہروں میں ملازمت کی تلاش میں رہے اور بالآخر ریاست حیدرآباد دکن منتقل ہو گئے، جہاں مہاراجہ کشن پرشاد نے ان کی قدر دانی کی اور انہیں محکمہ تعلیم میں ملازمت عطا کی۔ ان کی زندگی کی ان ہی تلخیوں نے ان کے کلام میں وہ سوز اور کرب پیدا کیا جو ان کی پہچان بنا۔
فنی خصوصیات اور یاسیت
فانی بدایونی کی شاعری کا بنیادی عنصر یاسیت اور غم ہے۔ ان کے فن کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
- فلسفۂ غم: فانی کے نزدیک غم محض ایک جذبہ نہیں بلکہ زندگی کی اصل حقیقت ہے۔ وہ غم کو لذت بنا کر پیش کرنے کے ماہر تھے۔
- موت کا تصور: ان کی شاعری میں موت کا تذکرہ نہایت تکرار اور فنکاری سے ملتا ہے۔ وہ موت کو زندگی کے خاتمے کے بجائے ایک ابدی سکون کا ذریعہ تسلیم کرتے تھے۔
- زبان و بیان کی پختگی: باوجود اس کے کہ ان کے مضامین بظاہر اداس کرنے والے ہوتے ہیں، ان کی زبان نہایت شستہ، محاورہ مستند اور اسلوب نہایت جاندار ہوتا تھا۔
شعری مجموعے
فانی کے کلام کے کئی مجموعے شائع ہوئے جنہوں نے ادبی دنیا میں ان کا مقام مستحکم کیا۔ ان کی اہم تصانیف درج ذیل ہیں:
- دیوانِ فانی: ان کا پہلا مجموعہ جو ان کی ابتدائی فنی جولانیوں کا آئینہ دار ہے۔
- باقیاتِ فانی: ان کے کلام کا ایک اہم حصہ جو ان کے فکری ارتقاء کو ظاہر کرتا ہے۔
- عرفانیاتِ فانی: ان کا وہ مجموعہ جس نے انہیں اردو غزل کے صفِ اول کے شعراء میں شامل کر دیا۔
وفات اور ادبی مقام
اردو غزل کا یہ عظیم المیہ نگار 27 اگست 1941ء کو حیدرآباد دکن میں وفات پا گیا۔ فانی بدایونی نے غزل کو جو سوز اور فنی ندرت عطا کی، اس نے آنے والے بہت سے شعراء کو متاثر کیا۔ نقادوں کا ماننا ہے کہ فانی کی شاعری میں جو داخلی کرب ہے، وہ اردو کے کسی دوسرے شاعر کے ہاں اس شدت کے ساتھ نہیں ملتا۔ وہ واقعی ایک ایسے فنکار تھے جنہوں نے اپنے آنسوؤں کو لفظوں کے موتیوں میں ڈھال دیا۔