صوفی تبسّم

(1978 - 1899)

حالاتِ زندگی

صوفی غلام مصطفیٰ تبسمؔ: استادِ فن اور بچوں کے محبوب شاعر

اردو، فارسی اور پنجابی ادب کے افق پر صوفی غلام مصطفیٰ تبسمؔ (۱۸۹۹ء تا ۱۹۷۸ء) ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت ہیں جن کی خدمات کا دائرہ تدریس سے لے کر تخلیقِ ادب تک پھیلا ہوا ہے۔ وہ ایک بلند پایہ ماہرِ تعلیم، مترجم، نقاد اور قادر الکلام شاعر تھے۔ صوفی صاحب نے جہاں سنجیدہ غزل اور نظم میں اپنا لوہا منوایا، وہاں بچوں کے لیے ایسی لازوال نظمیں لکھیں جو آج بھی ہر زبان زدِ عام ہیں۔

پیدائش اور علمی پس منظر

صوفی غلام مصطفیٰ تبسمؔ ۴ اگست ۱۸۹۹ء کو امرتسر (پنجاب) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی علمی پیاس بجھانے کے لیے مشرقِ وسطیٰ کی زبانوں اور ادب کا گہرا مطالعہ کیا۔ وہ طویل عرصے تک گورنمنٹ کالج لاہور میں فارسی کے پروفیسر رہے، جہاں انہوں نے فیض احمد فیضؔ جیسے عظیم شعراء کی فکری تربیت کی۔ ان کی تدریس کا انداز ایسا تھا کہ وہ خشک موضوعات کو بھی اپنی خوش گفتاری سے زندہ جاوید بنا دیتے تھے۔

بچوں کا ادب اور 'ٹوٹ بٹوٹ'

اردو ادب میں بچوں کے لیے لکھنا ایک مشکل فن ہے، مگر صوفی صاحب نے اس میدان میں وہ مقام حاصل کیا جو کسی اور کے حصے میں نہ آیا۔ انہوں نے 'ٹوٹ بٹوٹ' جیسا شہرہ آفاق کردار تخلیق کیا، جو اپنی شرارتوں اور معصومیت کے باعث بچوں کا آئیڈیل بن گیا۔ ان کی نظمیں 'ٹوٹ بٹوٹ نے کھایا لڈو'، 'ایک تھا لڑکا ٹوٹ بٹوٹ' اور 'پانچ چوہے گھر سے نکلے' آج بھی اردو نصاب اور بچوں کے حافظے کا لازمی حصہ ہیں۔

شعری اسلوب اور فارسی دوستی

صوفی صاحب کی شاعری میں کلاسکیت اور جدیدیت کا ایک حسین امتزاج ملتا ہے۔ ان کی غزلوں میں جہاں تغزل کی روایتی مٹھاس ہے، وہاں ان کی فارسی دانی نے ان کے کلام کو ایک خاص وقار بخشا۔ انہوں نے فارسی کے عظیم شعراء خصوصاً امیر خسروؔ کے کلام کا اردو میں جو منظوم ترجمہ کیا، وہ ان کی فنی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان کا نغمہ "میرے ڈھول سپاہیا" ۱۹۶۵ء کی جنگ کے دوران عزم و ہمت کی علامت بن کر ابھرا۔

اعزازات اور وفات

حکومتِ پاکستان نے ان کی گراں قدر ادبی اور تعلیمی خدمات کے اعتراف میں انہیں 'تمغۂ حسنِ کارکردگی' اور 'ستارۂ امتیاز' سے نوازا۔ اردو اور فارسی کا یہ عظیم درویش ۷ فروری ۱۹۷۸ء کو لاہور میں وفات پا گیا، مگر ان کی تخلیقات آج بھی بچوں کی مسکراہٹوں اور بڑوں کی علمی محفلوں میں زندہ ہیں۔


تحریر و ترتیب: یاور ماجد

ای-بکس (آن لائن مطالعہ)