بلونت سنگھ: پنجاب کے دیہات کا نبض شناس اور جدید اردو افسانے کا اہم ستون
بیسویں صدی کے اردو اور ہندی ادب میں بلونت سنگھ (۱۹۲۱ء تا ۱۹۸۶ء) ایک ایسے قد آور تخلیق کار تھے جنہوں نے افسانے اور ناول کو ایک نیا آہنگ عطا کیا۔ وہ محض ایک کہانی کار نہیں تھے بلکہ پنجاب کی دھرتی، وہاں کی ثقافت اور نفسیات کے بہترین عکاس تھے۔ انہوں نے تقسیمِ ہند کے المیے اور دیہی زندگی کی تلخ و شیریں حقیقتوں کو اپنے قلم سے اس طرح زندہ کیا کہ وہ اردو افسانے کو عالمی شناخت دینے کا سبب بن گئے۔
تخلیقی اسلوب اور "جگا"
بلونت سنگھ کا سب سے بڑا کارنامہ ان کا حقیقت پسندانہ اسلوب ہے۔ ان کا افسانہ "جگا" اردو ادب کے بہترین افسانوں میں شمار ہوتا ہے۔ اگرچہ "جگا" پنجاب کا ایک لوک کردار تھا، لیکن بلونت سنگھ نے اسے اردو فکشن میں جس طرح پیش کیا، وہ ان ہی کا خاصہ ہے۔ ان کے ہاں منٹو جیسی بے باکی اور راجندر سنگھ بیدی جیسی مٹی کی خوشبو یکجا ملتی ہے۔
اہم تصانیف اور ادبی سرمایہ
بلونت سنگھ نے ناول، افسانہ اور ڈرامہ ہر صنف میں طبع آزمائی کی۔ ان کی مشہور تصانیف درج ذیل ہیں:
- افسانوی مجموعے: 'جگا'، 'پہلا پتھر'، 'تارو پود'، 'ہندوستان ہمارا'۔ یہ وہ مجموعے ہیں جنہوں نے انہیں اپنے عہد کے ممتاز افسانہ نگاروں میں شامل کیا۔
- ناول: 'کالے کوس' (جو تقسیم کے پس منظر میں لکھا گیا ایک شاہکار ناول ہے)، 'رات، چور اور چاند'، 'چک پیراں کا جسّا'۔
صحافت اور ڈرامہ نگاری
ادبی تخلیقات کے علاوہ بلونت سنگھ نے صحافت اور ڈرامہ نگاری میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا۔ وہ طویل عرصے تک اہم ادبی رسائل سے وابستہ رہے۔ ان کے ڈراموں میں مکالموں کی برجستگی اور کرداروں کی نفسیات کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔
وفات
اردو فکشن کا یہ منفرد ستارہ ۲۷ مئی ۱۹۸۶ء کو الہٰ آباد میں غروب ہو گیا، مگر ان کا تخلیق کردہ ادب، خاص طور پر پنجاب کی عکاسی، آج بھی زندہ ہے۔