مصطفیٰ زیدی

(1970 - 1930)

حالاتِ زندگی

مصطفیٰ زیدی: جدید اردو غزل کا رومانوی اور المیہ استعارہ

اردو شاعری کے معاصر منظر نامے پر مصطفیٰ زیدی (اصل نام: سید مصطفیٰ حسن زیدی) ایک ایسی شخصیت تھے جنہوں نے اپنی تخلیقی توانائی سے غزل کے کینوس کو وسیع کیا۔ ان کی شاعری میں جہاں کلاسیکی رچاؤ ملتا ہے، وہیں جدید دور کی تنہائی، کرب اور سماجی تضادات کی بھرپور عکاسی بھی نظر آتی ہے۔

پیدائش اور تعلیمی پس منظر

مصطفیٰ زیدی 10 اکتوبر 1930ء کو اتر پردیش کے شہر الہ آباد میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک علمی اور معزز گھرانے سے تھا۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم الہ آباد میں ہی حاصل کی اور بعد ازاں الہ آباد یونیورسٹی سے انگریزی ادبیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے شعری سفر کا آغاز طالب علمی کے زمانے میں ہی ہو گیا تھا اور انہوں نے 'تیغ الہ آبادی' کے تخلص سے اپنی پہچان بنائی۔

ہجرت اور پیشہ ورانہ زندگی

تقسیمِ ہند کے بعد وہ پاکستان منتقل ہو گئے اور یہاں آ کر انہوں نے سی ایس ایس (CSS) کے امتحان میں کامیابی حاصل کی۔ وہ ایک انتہائی باصلاحیت سرکاری افسر تھے اور مختلف اضلاع میں ڈپٹی کمشنر کے عہدے پر فائز رہے۔ ان کی پیشہ ورانہ مصروفیات نے انہیں عوامی زندگی کو قریب سے دیکھنے کا موقع دیا، جس کے اثرات ان کی شاعری میں عصری شعور کی صورت میں نمایاں ہیں۔

ادبی خدمات اور فنی اسلوب

مصطفیٰ زیدی کی شاعری میں رومان اور حقیقت کا ایک انوکھا امتزاج پایا جاتا ہے۔ ان کے فن کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:

  • جمالیاتی حسیت: وہ حسن و عشق کے معاملات کو نہایت لطیف اور خوبصورت پیرائے میں بیان کرنے کے ماہر تھے۔
  • احتجاجی رنگ: ان کی شاعری میں اس دور کے سیاسی اور سماجی جبر کے خلاف ایک دبی دبی سی تڑپ اور احتجاج محسوس کیا جا سکتا ہے۔
  • منفرد اسلوب: انہوں نے اردو غزل کو انگریزی ادبیات کے مطالعے سے حاصل ہونے والی وسعتوں سے آشنا کیا، جس کی وجہ سے ان کے ہاں نئے استعارے اور تشبیہات ملتی ہیں۔

شعری مجموعے

ان کی زندگی میں اور وفات کے بعد ان کے کئی مجموعہ ہائے کلام شائع ہوئے جنہوں نے ادبی حلقوں میں بہت پذیرائی حاصل کی:

  • موج مری صدف مری: ان کے ابتدائی دور کا نمائندہ مجموعہ۔
  • شہرِ آزر: اس مجموعے نے انہیں جدید شعراء کی صفِ اول میں کھڑا کر دیا۔
  • زنجیریں اور کوہِ ندا: ان کے فکری ارتقاء اور آخری دور کے کرب کی ترجمانی کرنے والے مجموعے۔
  • کلیاتِ مصطفیٰ زیدی: ان کا تمام مطبوعہ و غیر مطبوعہ کلام اس میں یکجا کر دیا گیا ہے۔

المیہ وفات اور مقام

مصطفیٰ زیدی کی زندگی کا اختتام نہایت پراسرار اور المیہ رہا۔ وہ 12 اکتوبر 1970ء کو کراچی میں انتقال کر گئے۔ ان کی ناگہانی موت نے ادبی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ وہ ایک ایسے شاعر تھے جن کی شاعری میں موجود سچائی اور تڑپ آج بھی نئی نسل کے قارئین کو اپنی سحر میں لیے ہوئے ہے۔ انہوں نے اردو غزل کو جو نیا لہجہ دیا، وہ ہمیشہ ان کے نام کو زندہ رکھے گا۔


تحریر و ترتیب: یاور ماجد

ای-بکس (آن لائن مطالعہ)