بہزاد لکھنوی

(1974 - 1900)

حالاتِ زندگی

بہزاد لکھنوی: نغمہ و نور اور سوزِ دروں کا شاعر

اردو شاعری کے افق پر بہزاد لکھنوی (اصل نام: سردار حسین خاں) ایک ایسی شخصیت تھے جنہوں نے غزل، گیت اور نعت گوئی میں اپنی انفرادیت کے گہرے نقوش چھوڑے۔ لکھنوی تہذیب کے رچاؤ اور آفریدی نسل کی بے باکی نے ان کے کلام میں ایک خاص قسم کا توازن پیدا کیا تھا۔

پیدائش اور خاندانی پس منظر

بہزاد لکھنوی 1900ء میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سجاد حسین خان تھے اور ان کا تعلق ریاست رام پور کے آفریدی خاندان سے تھا۔ ان کی پرورش لکھنؤ کے علمی و ادبی ماحول میں ہوئی جس نے ان کے ذوقِ سخن کو جلا بخشی۔

عملی زندگی: ریلوے سے ریڈیو تک

بہزاد لکھنوی کی عملی زندگی تنوع سے بھرپور رہی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے ایسٹ انڈیا ریلوے میں بطور ٹی ٹی آئی (TTI) ملازمت اختیار کی، مگر طبی وجوہات (اختلاجِ قلب) کی بنا پر مستعفی ہو گئے۔ 1932ء میں وہ آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ ہوئے اور 1942ء میں لاہور کی مشہور 'پنچولی آرٹ پکچر' میں ملازمت کی۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ کراچی منتقل ہو گئے اور وہیں مستقل سکونت اختیار کی۔

ادبی خدمات اور تخلیقات

بہزاد لکھنوی کی تخلیقی زندگی بہت زرخیز تھی۔ ان کے کلام میں جہاں تغزل کی چاشنی ہے، وہاں نعت گوئی کا والہانہ پن بھی موجود ہے۔ ان کی چند نمایاں تصانیف درج ذیل ہیں:

  • نغمہ و نور کے مجموعے: 'نغمہ روح'، 'نغمہ نور'، 'موجِ طہور'، اور 'کیف و سرور' ان کے شعری مجموعوں میں نمایاں ہیں۔
  • گیت نگاری: 'موجِ نور' ان کے سو خوبصورت گیتوں کا مجموعہ ہے، جو ان کی نغمگی پر دسترس کا ثبوت ہے۔
  • منظوم سیرت و نعت: 'بیانِ حضور' ان کی منظوم سیرتِ نبویﷺ ہے، جبکہ 'کرم بالائے کرم' اور 'چراغِ طور' ان کی عقیدت کا اظہار ہیں۔
  • دیگر کتب: 'آہِ ناتمام'، 'بستانِ بہزاد' اور 'کفر و ایمان' بھی ان کے شعری و فکری ارتقاء کی ترجمانی کرتی ہیں۔

فنی اسلوب

بہزاد لکھنوی کی شہرت کا ایک بڑا سبب ان کی وہ غزلیں اور نعتیں ہیں جنہیں برصغیر کے نامور گلوکاروں اور قوالوں نے گایا۔ ان کے کلام میں ایک خاص قسم کا بہاؤ اور موسیقیت ہے جو سننے والے کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ ان کی غزلوں میں لکھنوی اسلوب کی شگفتگی اور لطافت نمایاں ہے۔

وفات

اردو ادب کا یہ درخشندہ ستارہ 1974ء میں کراچی میں غروب ہوا۔ ان کی وفات سے اردو شاعری ایک ایسے ہمہ جہت فنکار سے محروم ہو گئی جو غزل اور نعت دونوں میدانوں کا شہسوار تھا۔


تحریر و ترتیب: یاور ماجد

ای-بکس (آن لائن مطالعہ)