عبید اللہ علیم

(1998 - 1939)

حالاتِ زندگی

عبید اللہ علیمؔ: جدید اردو غزل کا توانا اور رومانوی لہجہ

اردو شاعری کے جدید منظر نامے پر عبید اللہ علیمؔ ایک ایسی شخصیت کے طور پر ابھرے جنہوں نے غزل کو کلاسیکی رچاؤ کے ساتھ ساتھ ایک نیا احتجاجی اور جذباتی آہنگ عطا کیا۔ ان کا شمار ان شعراء میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے انسانی رشتوں کی نزاکت اور سماجی جبریت کو بڑے منفرد انداز میں پیش کیا۔

پیدائش اور تعلیمی پس منظر

عبید اللہ علیمؔ 12 جون 1939ء کو بھوپال (برطانوی ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان ہجرت کر آئے اور کراچی میں سکونت اختیار کی۔ انہوں نے اپنی تعلیم کراچی سے ہی مکمل کی اور جامعہ کراچی سے اردو ادبیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے تعلیمی پس منظر نے ان کے شعری ذوق کو روایت کی مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔

پیشہ ورانہ زندگی اور ریڈیو و ٹیلی ویژن

ان کی عملی زندگی کا بڑا حصہ ابلاغِ عامہ کے اداروں سے وابستگی میں گزرا۔ انہوں نے ریڈیو پاکستان سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور بعد ازاں پاکستان ٹیلی ویژن (PTV) میں بطور پروڈیوسر شامل ہوئے۔ پی ٹی وی میں ان کی خدمات نہایت گراں قدر رہیں، جہاں انہوں نے ادبی اور ثقافتی پروگراموں کے ذریعے اردو زبان و ادب کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔

ادبی خدمات اور شعری خصوصیات

عبید اللہ علیمؔ کی شہرت ان کی غزل گوئی کی مرہونِ منت ہے۔ ان کے فن کے چند نمایاں پہلو درج ذیل ہیں:

  • جذباتی شدت: ان کے ہاں جذبات کا اظہار نہایت سچا اور والہانہ ہوتا ہے۔ وہ اپنے اندرونی کرب اور بیرونی حالات کو بڑی مہارت سے غزل کے قالب میں ڈھالتے تھے۔
  • لہجے کا بانکپن: ان کی غزلوں میں ایک خاص قسم کی تازگی اور توانائی ہے جو قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔
  • موضوعات: ان کے ہاں محبت، تنہائی، خواب اور ہجرت کے دکھوں کا ذکر کثرت سے ملتا ہے۔ وہ ایک ایسے شاعر تھے جنہوں نے مصلحتوں کے بجائے سچائی کو اپنا شعار بنایا۔

شعری مجموعے

ان کی تخلیقات میں درج ذیل مجموعے اردو غزل کا جدید اثاثہ مانے جاتے ہیں:

  • چاند چہرہ ستارہ آنکھیں: ان کا پہلا مجموعہ جس نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا اور جس پر انہیں آدم جی ادبی انعام سے نوازا گیا۔
  • ویران سرا کا دیا: ان کے فکری ارتقاء کا آئینہ دار مجموعہ۔
  • خوابوں کے دکھ: ان کے آخری دور کا کلام جو ان کی قلبی وارداتوں کی ترجمانی کرتا ہے۔

وفات

اردو غزل کا یہ درخشندہ ستارہ 18 مئی 1998ء کو کراچی میں انتقال کر گیا۔ عبید اللہ علیمؔ اگرچہ آج ہمارے درمیان نہیں ہیں، مگر ان کی غزلوں کا سحر آج بھی اردو ادب کے قارئین پر طاری ہے۔ انہوں نے غزل کو جو رومانوی فضا اور جدید شعور دیا، وہ انہیں تاریخ میں ہمیشہ ممتاز رکھے گا۔


تحریر و ترتیب: یاور ماجد

ای-بکس (آن لائن مطالعہ)