شیخ ابراہیم ذوق

(1854 - 1790)

حالاتِ زندگی

شیخ محمد ابراہیم ذوقؔ: خاقانیِ ہند اور اردو زبان کے معتبر استاد

اردو شاعری کی تاریخ میں شیخ محمد ابراہیم ذوقؔ کا نام ایک ایسے قادر الکلام شاعر کے طور پر ابھرا جس نے قصیدہ گوئی اور غزل میں زبان و بیان کے اعلیٰ معیار قائم کیے۔ وہ دہلی کے دبستانِ شاعری کے ایک مضبوط ستون تھے اور ان کا کلام آج بھی زبان کی فصاحت کا مستند حوالہ مانا جاتا ہے۔

پیدائش اور ابتدائی زندگی

ذوقؔ ۱۷۸۹ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد شیخ محمد رمضان ایک سپاہی تھے، مگر ذوقؔ کا میلان شروع سے ہی علم و ادب کی طرف تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم حافظ غلام رسول سے حاصل کی۔ ذوقؔ کو بچپن سے ہی شاعری کا شوق تھا اور انہوں نے شاہ نصیرؔ دہلوی جیسے استاد سے اپنے کلام پر اصلاح لی۔

شاہی دربار اور 'خاقانیِ ہند' کا خطاب

ذوقؔ کی قسمت کا ستارہ اس وقت چمکا جب وہ مغل دربار سے وابستہ ہوئے۔ شہزادہ ابو ظفر (جو بعد میں بہادر شاہ ظفرؔ کے نام سے بادشاہ بنے) ان کے شاگرد ہو گئے۔

  • استادِ شاہ: بہادر شاہ ظفرؔ اپنی شاعری میں ذوقؔ سے ہی اصلاح لیتے تھے اور ان کا بے حد احترام کرتے تھے۔
  • خطابات: ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں 'خاقانیِ ہند' اور 'ملک الشعراء' جیسے بڑے خطابات سے نوازا گیا۔
  • غالبؔ سے معاصرت: ذوقؔ اور غالبؔ کی معاصرت اردو ادب کا ایک دلچسپ باب ہے۔ اگرچہ دونوں کے رنگِ سخن میں بڑا فرق تھا، مگر دونوں نے اپنے اپنے طور پر اردو غزل کو نئی وسعتیں عطا کیں۔

فنی خصوصیات اور شعری اسلوب

ذوقؔ کی شاعری میں زبان کی صفائی اور محاورے کا برجستہ استعمال اپنی انتہا پر نظر آتا ہے:

  • محاورہ بندی: انہیں زبان پر اس قدر قدرت حاصل تھی کہ وہ محاوروں کو شعر میں اس طرح جڑ دیتے تھے جیسے انگوٹھی میں نگینہ۔
  • قصیدہ گوئی: غزل کے علاوہ ذوقؔ قصیدہ نگاری کے بھی بے تاج بادشاہ تھے۔ ان کے قصائد میں الفاظ کی شوکت اور فنی پختگی نمایاں ہے۔
  • اخلاقیات اور فلسفہ: ان کے کلام میں جگہ جگہ حکیمانہ نکات اور اخلاقی سبق ملتے ہیں جو ان کے گہرے مشاہدے کی دلیل ہیں۔

وفات اور آخری کلام

اردو زبان کا یہ عظیم استاد ۱۶ نومبر ۱۸۵۴ء کو دہلی میں وفات پا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ وفات سے کچھ دیر قبل انہوں نے یہ مشہورِ زمانہ مقطع کہا تھا جو ان کی فنی عظمت کا آخری نقش ثابت ہوا:

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے


تحریر و ترتیب: یاور ماجد

ای-بکس (آن لائن مطالعہ)