ابھی کھینچ کر تم کو
لائیں گے ہم
ذرا رہ تو اے دشت آوارگی
فسانہ تری زلفِ شب رنگ کا
وہی دردِ فرقت وہی انتظار
بھلا مر کے کیا چین
پائیں گے ہم
وہ گمراہ غیروں کے ہم راہ ہے
اسے راہ پر کیوں کہ
لائیں گے ہم
قفس سے ہوا اذن پرواز کب
یہ خواہش ہی دل سے
اڑائیں گے ہم
طلسم محبت ہے عاشق کا حال
وہ نخوت سے ہیں آسماں سے پرے
کہاں سے انہیں ڈھونڈ
لائیں گے ہم
نہ کر آہ یہ شورش افزائیاں
نہ ٹوٹے گا سرِ رشتۂِ اختلاط
یہ مانا کہ ہو رشکِ حور و پری
حذر تیرِ مژگاں کی بوچھاڑ سے
ہمیں زہر و خنجر کی کیوں ہے تلاش
شبِ غم میں کیا مر نہ
جائیں گے ہم
نہ نکلا کوئی ڈھب تو بن کر غبار
کہاں گھر میں مفلس کے فرش و فروش
ترے قد سے کی سرو نے ہم سری
نہیں غسل میت کی جا قتل گاہ
مگر خاک و خوں میں
نہائیں گے ہم
رہِ عشق سے نابلد ہے ابھی
ہوا وصل بھی تو مزا کون سا
وہ روٹھیں گے ہر دم
منائیں گے ہم
شب و روز دل کو کریدیں نہ کیوں
یہیں سے پتا اس کا
پائیں گے ہم
عبث ہے یہ مجروحؔ طولِ امل
بکھیڑے یہ سب چھوڑ
جائیں گے ہم