بالیں پہ کہیں رات ڈھل رہی ہے

فیض احمد فیض


بالیں پہ کہیں رات ڈھل رہی ہے
یا شمع پگھل رہی ہے
پہلو میں کوئی چیز جل رہی ہے
تم ہو کہ مری جاں نکل رہی ہے
 
مفعول مفاعیل فاعلاتن
قریب مسدس اخرب مکفوف
فہرست