مگر طرزِ بیاں اپنا الگ ہے

رسا چغتائی


ہر اک درویش کا قصہ الگ ہے
مگر طرزِ بیاں اپنا الگ ہے
غنیمت ہے بہم مل بیٹھنا بھی
اگرچہ وصل کا لمحہ الگ ہے
ملے تھے کب جو ہم اب پھر ملیں گے
ہمارا آپ کا رستہ الگ ہے
عبارت ہے شعور زندگی سے
نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا الگ ہے
نہیں ہے اور وابستہ ہے سب سے
ہمارے درد کا رشتہ الگ ہے
مفاعیلن مفاعیلن فَعُولن
ہزج مسدس محذوف
فہرست