بے تابی دل جب حد سے بڑھی گھبرا کے محبت کر بیٹھے

شکیل بدایونی


تقدیر کی گردش کیا کم تھی اس پر یہ قیامت کر بیٹھے
بے تابی دل جب حد سے بڑھی گھبرا کے محبت کر بیٹھے
آنکھوں میں چھلکتے ہیں آنسو دل چپکے چپکے روتا ہے
وہ بات ہمارے بس کی نہ تھی جس بات کی ہمت کر بیٹھے
غم ہم نے خوشی سے مول لیا اس پر بھی ہوئی یہ نادانی
جب دل کی امیدیں ٹوٹ گئیں قسمت سے شکایت کر بیٹھے
فعلن فعلن فعلن فعلن فعلن فعلن فعلن فعلن
بحرِ زمزمہ/ متدارک مثمن مضاعف
فہرست