رات کٹی تو صبح کا ڈر ہے

شکیل بدایونی


غم سے کہاں اے عشق مفر ہے
رات کٹی تو صبح کا ڈر ہے
ترکِ وفا کو مدت گزری
آج بھی لیکن دل پہ اثر ہے
آئنے میں جو دیکھ رہے ہیں
یہ بھی ہمارا حسنِ نظر ہے
غم کو خوشی کی صورت بخشی
اس کا بھی سہرا آپ کے سر ہے
لاکھ ہیں ان کے جلوے جلوے
میری نظر پھر میری نظر ہے
تم ہی سمجھ لو تم ہو مسیحا
میں کیا جانوں درد کدھر ہے
پھر بھی شکیلؔ اس دور میں پیارے
صاحب فن ہے اہلِ ہنر ہے
فہرست