وہ مل گیا ہے مگر چھین لے خدا کے لیے

افضل منہاس


تڑپ رہا تھا میں جس دردِ لا دوا کے لیے
وہ مل گیا ہے مگر چھین لے خدا کے لیے
میں بوند بوند ٹپکتا ہوں اپنے ہونٹوں پر
چلا تھا لے کے یہ سرمایہ کربلا کے لیے
فشار غم نے مجھے چور چور کر ڈالا
کواڑ کھول دے سارے ذرا ہوا کے لیے
کٹی ہوئی ہے مرے تازہ موسموں کی زباں
کہاں سے لاؤں گا الفاظ اب دعا کے لیے
مری طلب نے مرے ہاتھ توڑ ڈالے ہیں
بہت کڑا ہے یہ لمحہ مری انا کے لیے
کبھی دریچے سمندر کی سمت کھلتے تھے
ترس گیا ہوں مگر اب کھلی فضا کے لیے
مجھے خبر ہے جھکے گی تری نظر نہ کبھی
بنی ہے یہ تو صفت چشم با حیا کے لیے
ہر ایک چیز یہاں کاغذی لباس میں ہے
کوئی جگہ نہیں ملتی گل وفا کے لیے
خیال میں کئی کانٹے اتر گئے افضلؔ
سزا ملی ہے یہ اک حرفِ نارسا کے لیے
مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن
فہرست