لفظ کو کون پوچھتا ہے یہاں

اکبر حمیدی


زور و زر کا ہی سلسلہ ہے یہاں
لفظ کو کون پوچھتا ہے یہاں
پہلا تو اب کسی جگہ بھی نہیں
جس طرف دیکھو دوسرا ہے یہاں
رات دن پھر رہا ہوں گلیوں میں
میرا اک شخص کھو گیا ہے یہاں
سحر ہے یا طلسم ہے کیا ہے
ہر کوئی راہ بھولتا ہے یہاں
ہر کہیں سچ ہی بولنا چاہے
شاید اکبرؔ نیا نیا ہے یہاں
فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع
فہرست