کہ دوستوں میں، کبھی دشمنوں میں ہوتے ہیں

احمد فراز


جو سادہ دل ہوں بڑی مشکلوں میں ہوتے ہیں
کہ دوستوں میں، کبھی دشمنوں میں ہوتے ہیں
ہوا کے رخ پہ کبھی بادباں نہیں رکھتے
بلا کے حوصلے دریا دلوں میں ہوتے ہیں
پلٹ کے دیکھ ذرا اپنے رہ نوردوں کو
جو منزلوں پہ نہ ہوں راستوں میں ہوتے ہیں
پیمبروں کا نسب شاعروں سے ملتا ہے
فراز ہم بھی انہیں سلسلوں میں ہوتے ہیں
مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن
فہرست