غزل سرا
ہماری کتابیں
شعراء
رابطہ
اکاؤنٹ
رجسٹر
لاگ اِن
غزل سرا کے بارے میں
تلاش
مرزا غالب
گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیوں کر ہو
کہے سے کچھ نہ ہوا، پھر کہو تو کیوں کر ہو
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
تمہیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے
حیدر علی آتش
تصور سے کسی کے میں نے کی ہے گفتگو برسوں
رہی ہے ایک تصویرِ خیالی روبرو برسوں
عاشق جو حسن پاک میں کچھ گفتگو کریں
دامن کا پیچھے نام لیں پہلے وضو کریں
افسانہ گوئی افعی گیسوئے یار میں
خاموش ہوں چراغ جو ہم گفتگو کریں
یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے
ہم اور بلبل بیتاب گفتگو کرتے
داغ دہلوی
نئی ضد ہے کہ دل ہم مفت لیں گے
بھلا کیا فائدہ اس گفتگو سے
محشر میں اور ان سے مری دو بہ دو نہ ہو
کہنے کی بات ہے جو کوئی گفتگو نہ ہو
ایسے کہاں نصیب کہ وہ بت ہو ہم کلام
ہم طور پر بھی جائیں تو کچھ گفتگو نہ ہو
رنج کی جب گفتگو ہونے لگی
آپ سے تم تم سے تو ہونے لگی
مصحفی غلام ہمدانی
اس کے دہان تنگ میں جائے سخن نہیں
ہم گفتگو کریں بھی تو کیا گفتگو کریں
مجلس میں تیری ٹھہرے کیا مصحفیؔ کہ ناداں
غیر از ابے تبے تو کچھ گفتگو نہیں یاں
حرمت لکھی شراب کی یاں تک کہ کھنچ رہا
زاہد کی گفتگو سے قدح اور قدح سے ہم
فیض احمد فیض
شرحِ فراق، مدحِ لبِ مشکبو کریں
غربت کدے میں کس سے تری گفتگو کریں
گر انتظار کٹھن ہے تو جب تلک اے دل
کسی کے وعدۂ فردا کی گفتگو ہی سہی
یگانہ چنگیزی
اسیر حال نہ مردوں میں ہیں نہ زندوں میں
زبان کٹتی ہے آپس میں گفتگو کرتے
باقی صدیقی
ہر ایک آدمی اڑتا ہوا بگولا تھا
تمہارے شہر میں ہم کس سے گفتگو کرتے
جون ایلیا
اک توجہ عجب ہے سمتوں میں
کہ نہ بولوں تو گفتگو ٹھہرے
ہے بکھرنے کو یہ محفل رنگ و بو تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
ہر طرف ہو رہی ہے یہی گفتگو تم کہاں جاؤ گے ہم کہاں جائیں گے
گزار اے شوق اب خلوت کی راتیں
گزارش بن گلہ بن گفتگو بن
خواجہ میر درد
سر تا قدم زبان ہیں جوں شمع گو کہ ہم
پر یہ کہاں مجال جو کچھ گفتگو کریں
مرا جی ہے جب تک تری جستجو ہے
زباں جب تلک ہے یہی گفتگو ہے
قمر جلالوی
گلہ بزمِ عدو میں کیونکر اس کے رو برو ہو گا
خدا معلوم و کس کس سے محوِ گفتگو ہو گا
اگر وہ صبح کو آئے تو کس سے گفتگو ہو گی
کہ اے شمعِ فرقت نہ ہم ہونگے نہ تو ہو گی
حریمِ ناز تک تو آ گیا ہوں کس سے کیا پوچھوں
یہاں جلوہ دکھایا جائے گا یا گفتگو ہو گی
بیاں جو حشر میں ہم وجہ آرزو کرتے
وہ کیا ہیں ان کے فرشتے بھی گفتگو کرتے
تری گلی میں بیاں کس سے آرزو کرتے
کسی کو جانتے ہوتے تو گفتگو کرتے
قفس میں کیسے بیاں حال رنگ و بو کرتے
پروں کی خیر مناتے کہ گفتگو کرتے
قمر یقین جو کرتے ہم ان کے وعدے پر
تمام رات ستاروں سے گفتگو کرتے
عرفان صدیقی
جنوں کے فیض سے چرچا بتوں میں وحشت کا
خدا کے فضل سے موضوعِ گفتگو ہم لوگ
مصطفیٰ زیدی
زبانِ غیر سے کیا شرح آرزو کرتے
وہ خود اگر کہیں ملتا تو گفتگو کرتے
رئیس فروغؔ
سفر میں جب تلک رہنا گھروں کی آرزو کرنا
گھروں میں بیٹھ کر بیتے سفر کی گفتگو کرنا
ادا جعفری
ایک آئینہ رو بہ رو ہے ابھی
اس کی خوشبو سے گفتگو ہے ابھی
بیان میرٹھی
یہ تاثیر محبت ہے کہ ٹپکا
ہمارا خوں تمہاری گفتگو سے
وہ ہیں کیوں حسن کے پردہ پہ نازاں
یہ سیکھا ہے ہماری گفتگو سے
زہرا نگاہ
اس ہجوم میں وہ پل کس طرح سے تنہا ہے
جب خموش تھے ہم تم اور گفتگو کی تھی
ضیا جالندھری
کیا جانے اہلِ بزم نے کیا کیا سمجھ لیا
اخفائے آرزو تھی وہ چپ گفتگو نہ تھی
عالم تاب تشنہ
زمانہ ہنستا رہا میری خود کلامی پر
ترے خیال سے مصروف گفتگو میں تھا
تلوک چند محروم
دہان غنچۂ تر سے زبان سوسن سے
چمن چمن میں سنی میں نے گفتگو تیری
سخن ہو سمع خراشی تو خامشی بہتر
اثر کرے نہ جو دل پر وہ گفتگو کیا ہے
حسرت موہانی
وہ منکر ہو نہیں سکتا فسوں کا
سنا ہو جس نے تیری گفتگو کو
فانی بدایونی
آپ سے شرح آرزو تو کریں
آپ تکلیف گفتگو تو کریں
اکبر حمیدی
برا نہ کہنا زمانے کو ہم زمانہ ہیں
ہمارے بعد زمانے سے گفتگو رکھنا
احمد فراز
کیا ایسے کم سخن سے کوئی گفتگو کرے
جو مستقل سکوت سے دل کو لہو کرے
قابل اجمیری
یہ تابش لبِ لعلیں یہ شعلۂ آواز
تمام بزم تری گفتگو سے روشن ہے
محسن احسان
تھے خوش گماں کہ کسی خوش سخن سے واسطہ ہے
بہت ملال ہوا اس سے گفتگو کر کے
ناصر کاظمی
شب کی تنہائیوں میں پچھلے پہر
چاند کرتا ہے گفتگو ہم سے