قد و گیسو سے اپنا سلسلہ دار و رسن تک ہے

مجروح سلطان پوری


جنون دل نہ صرف اتنا کہ اک گل پیرہن تک ہے
قد و گیسو سے اپنا سلسلہ دار و رسن تک ہے
مگر اے ہم قفس کہتی ہے شوریدہ سری اپنی
یہ رسم قید و زنداں ایک دیوار کہن تک ہے
کہاں بچ کر چلی اے فصلِ گل مجھ آبلہ پا سے
مرے قدموں کی گل کاری بیاباں سے چمن تک ہے
میں کیا کیا جرعۂ خوں پی گیا پیمانۂ دل میں
بلا نوشی مری کیا اک مئے ساغر شکن تک ہے
نہ آخر کہہ سکا اس سے مرا حالِ دلِ سوزاں
مہِ تاباں کہ جو اس کا شریک انجمن تک ہے
نوا ہے جاؤداں مجروحؔ جس میں روح ساعت ہو
کہا کس نے مرا نغمہ زمانے کے چلن تک ہے
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
ہزج مثمن سالم
فہرست