غزل سرا پر موجود تمام شعرا

ماجد صدیقی

ماجد صدیقی

(1938 - 2015)
ماجد صدیقی اردو اور پنجابی ادب کا وہ قد آور نام ہیں جن کی تخلیقی صلاحیتوں نے دونوں زبانوں کو مالا مال کیا ہے۔ ایک شاعر، مترجم، اور کمال کے نثر نگار کی حیثیت سے ان کا کام جدید ادب میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
مجروح سلطان پوری

مجروح سلطان پوری

(1920 - 2000)
مجروح سلطان پوری (۱۹۱۹ء تا ۲۰۰۰ء) اردو غزل اور فلمی دنیا کا وہ درخشندہ ستارہ ہیں جنہوں نے ثابت کیا کہ ایک نظریاتی شاعر اپنی انقلابی فکر کے ساتھ بھی غزل کی نزاکت اور تغزل کو برقرار رکھ سکتا ہے۔ وہ ترقی پسند تحریک کے صفِ اول کے شعراء میں شامل تھے
مجید امجد

مجید امجد

(1914 - 1974)
مجید امجدؔ اردو نظم کا وہ ہمالہ ہیں جس کی بلندی کا اندازہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہو رہا ہے۔ وہ ایک ایسے منفرد تخلیق کار تھے جنہوں نے کائنات کے ذرے ذرے میں زندگی کا سراغ لگایا اور اردو نظم کو وہ وسعت عطا کی جو اس سے پہلے خواب لگتی تھی۔
محبوب خزاں

محبوب خزاں

(1930 - 2013)
محبوب خزاں (۱۹۲۹ء تا ۲۰۱۳ء) اردو غزل کے ان شعراء میں سے ہیں جنہوں نے خاموشی اور درویشی کے ساتھ ادب کی وہ خدمت کی جو بڑے بڑے شور و غوغا کرنے والے نہ کر سکے۔ وہ جدید غزل کے ایک ایسے معتبر اور ثقہ شاعر تھے جن کے ہاں لفظوں کا استعمال ایک خاص سلیقے اور احتیاط کا مرہونِ منت ہوتا تھا۔
محسن احسان

محسن احسان

(1933 - 2010)
محسن احسان (۱۹۳۲ء تا ۲۰۱۰ء) خیبر پختونخوا کی مٹی سے اٹھنے والے اردو ادب کے وہ معتبر شاعر اور مترجم تھے جنہوں نے پشاور کے ادبی منظر نامے کو ایک عالمی پہچان عطا کی۔ وہ ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت تھے جن کے کلام میں سرحدوں کے آخری سرے کی خوشبو اور جدید عہد کی فکری گہرائی یکجا ملتی ہے۔
محسن نقوی

محسن نقوی

(1947 - 1996)
محسن نقوی (۱۹۴۷ء تا ۱۹۹۶ء) جدید اردو غزل کے ان چند معتبر اور مقبول ترین شعراء میں سے ہیں جنہیں "خوشبوؤں کا شاعر" اور "احساس کا ترجمان" کہا جاتا ہے۔
مرزا رفیع سودا

مرزا رفیع سودا

(1713 - 1781)
مرزا محمد رفیع سودا کو اردو قصیدہ نگاری میں وہی مقام حاصل ہے جو غزل میں میر اور غالب کو حاصل ہے
مرزا غالب

مرزا غالب

(1797 - 1869)
مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ اردو ادب کا وہ آفتاب ہیں جس کی شعاعیں رہتی دنیا تک فکر و فن کو منور کرتی رہیں گی۔ غالبؔ صرف ایک شاعر نہیں تھے بلکہ ایک عظیم مفکر تھے جنہوں نے انسان کے داخلی وجود اور کائنات کے سربستہ رازوں کو اپنی غزلوں کا موضوع بنایا۔ان کی شاعری ہر عہد اور ہر طبقے کے لیے نیا مفہوم رکھتی ہے
مصحفی غلام ہمدانی

مصحفی غلام ہمدانی

(1747 - 1824)
شیخ غلام علی ہمدانی مصحفی (1748۔1824ء) اردو زبان کے کلاسیکی اور عہدِ قدیم کے شاعر ہیں۔ میر تقی میر کے بعد بحیثیتِ مجموعی اردو شاعری کے دورِ قدیم میں مصحفی، مرتبہ میں سب سے بلند ہے۔
مصطفٰیٰ خان شیفتہ

مصطفٰیٰ خان شیفتہ

(1809 - 1869)
نواب مصطفٰی خان شیفتہ جہانگیر آباد کے جاگیردار، اردو فارسی کے باذوق شاعر اور نقاد تھے۔
مصطفیٰ زیدی

مصطفیٰ زیدی

(1930 - 1970)
مصطفیٰ زیدی (۱۹۳۰ء تا ۱۹۷۰ء) جدید اردو غزل کے ان چند چنیدہ شعراء میں سے ہیں جن کے ہاں شدتِ جذبات اور جمالیاتی حسیت اپنے عروج پر ملتی ہے۔ وہ ایک بلند پایہ سرکاری افسر بھی تھے، مگر ان کی اصل شناخت ان کی وہ شاعری بنی جس نے اردو غزل کو ایک نیا رومانوی اور احتجاجی رنگ عطا کیا۔
مومن خان مومن

مومن خان مومن

(1800 - 1851)
حکیم مومن خان مومنؔ (۱۸۰۰ء تا ۱۸۵۱ء) اردو غزل کے ان تین ستونوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے دہلی کی شعری روایت کو بامِ عروج پر پہنچایا۔ جہاں غالبؔ اپنی فکر اور ذوقؔ اپنی زبان دانی کے لیے مشہور تھے، وہاں مومنؔ اپنے مخصوص تغزل، معاملہ بندی اور نازک خیالی کی وجہ سے ممتاز تھے۔
میر انیس

میر انیس

(1803 - 1874)
میر ببر علی انیسؔ (۱۸۰۳ء تا ۱۸۷۴ء) اردو ادب کے وہ آفتاب ہیں جن کے دم سے مرثیہ نگاری کو وہ عروج ملا جس کی مثال پوری عالمی ادبی تاریخ میں ملنا مشکل ہے۔ انہوں نے اردو زبان کو وہ وسعت، الفاظ کا ذخیرہ اور بیانیہ قوت عطا کی کہ انہیں "اردو کا ہومر" اور "اردو کا شیکسپیئر" بھی کہا جاتا ہے۔
میر مہدی مجروح

میر مہدی مجروح

(1833 - 1903)
میر مہدی مجروحؔ (۱۸۳۳ء تا ۱۹۰۳ء) مرزا غالبؔ کے ان محبوب ترین شاگردوں میں سے تھے جن کا ذکر غالبؔ کے خطوط میں نہایت محبت اور اپنائیت سے ملتا ہے۔ غالبؔ انہیں اکثر "میر مہدی" کہہ کر پکارتے تھے اور ان کی بذلہ سنجی اور ذہانت کے مداح تھے۔
میرا جی

میرا جی

(1912 - 1949)
میرا جی (۱۹۱۲ء تا ۱۹۴۹ء) اردو ادب کی ان چند پراسرار اور پیچیدہ شخصیتوں میں سے ہیں جن کے بغیر جدید نظم کی تاریخ ادھوری ہے۔ انہیں اردو کا "باؤلا" شاعر بھی کہا گیا اور جدیدیت کا امام بھی۔